
حکیم بقراط کا قول ہے کہ تحمل ظاہر کرنا سرداری کی دلیل اور بہترین نیکوکاری ہے۔ہماری ایٹمی ریاست کی عمارت اگ و خون میں جل رہی ہے۔ایک طرف خود کش بمباروں کی درندگی سے ملکی سلامتی داو پر لگ چکی ہے جبکہ دوسری طرف ہمارے سامراجی حلیف ائے روز ہمیں بارود کا نشانہ بنا کر ہماری بے بسی کا نغمہ جانفزا سنا رہے ہیں لیکن حکام وقت متضاد بیانات کی چاند ماری سے سب اچھا ہے کی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ پہلے عدلیہ کی بحالی میں تواتر سے جھوٹ بولا گیا۔میثاق جمہوریت کے متعلق مسلسل بازی گری کا مظاہرہ کیا گیا۔زبانی اور تحریری معاہدوں سے انحراف کیا گیا۔یہ سارا تماشا سربازار وقوع ہوتا رہا پھر بھی حاکمان وقت اس احساس تفاخر میں مبتلا رہے کہ لوگوں کی بصیرت اور سماعت کو متضاد بیانات کے غبار الود قفس میں قید کیا جاسکتا ہے۔پاکستان کو بیک وقت بغاوت اور دہشت گردی کا سامنا ہے۔قانون کے بخئیے ادھیڑنے والے دہشت گردوں کو نکیل ڈالنا بے گناہ شہریوں کے جان و مال کو امان مہیا کرنا ریاست کی زمہ داری ہے۔اس کے لئے پاکستان کو تمام وسائل حاصل ہیںیعنی پیرا ملٹری فورسز ایجنسیاں دس لاکھ جوانوں پر مشتعمل لاو لشکر وغیرہ۔اگر دہشت گردوں اور باغیوں اور انکے سر پرستوں کو قانون کے شکنجے میں کسنا سرکاری اداروں کا کام ہے۔اگر ایجنسیاں اور سیکیورٹی فورسز یہ کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں تو پھر انکا جواز کیا ہے۔یہ کیسی پالیسی ہے کہ ایک طرف امریکی جارہیت کا منہ توڑ جواب دینے کا نقارہ بجایا جاتا ہے تو دوسری طرف دورحاظرہ کے طاغوت کے بگ باس بش کی موجودگی میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ کا بگل بجایا جاتا ہے۔لیکن اس تلخ سچائی کو مانے بغیر ریاست کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوسکتی کہ اپنے لوگوں پر وحشیانہ بارود برسانے کی بجائے انکے زخموں پر الفت و یگانگت کے پھاہے رکھنا ہونگے۔دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے لئے پاکستان کو ایک طرف اس نام نہاد سامراجی جنگ کی دلدل سے باہر نکلنا ہوگا اور دوسری طرف بھپرے ہوئے قبائلیوں کے دلوں کو بارود کی بجائے مذاکرات و لطیف جذبات سے اپنا بنانا ہوگا۔امریکی فوج کی موجودگی نفرت و دہشت پھیلانے کا سبب بنتی رہے گی۔علاج کا کام ان طبیبوں کا ہے جو بڑے بڑے دعووں کے ساتھ تخت پاکستان پر نازل ہوئے۔وائٹ ہاوس نام کے فساد گڑھ سے ہمیں تریاق کبھی نہیں ملے گا بلکہ وہاں سے تو زہر ہی میسر اتا ہے۔جو اہستہ اہستہ پورے سماج میں پھیل جائے گا۔اس لئے اسے مستحکم لہجے میں “ ہینڈز آف “ کا پیغام دینا ضروری ہے کہ وہ یہاں سے چلا جائے اور اپنے لئے کوئی اور چراگاہ ڈھونڈے اسے تو اس فن میں مہارت ہے لیکن وہ جہاں بھی جائے گا اپنے لئے نفرت کا بیج ہی کاشت کرے گا۔عالمی میڈیا کسی دور میں پاکستان کو دہشت گردی کا گڑھ قرار دیتا تھا لیکن اب انہوں نے بغاوت کی اصطلاح استعمال کرنا شروع کردی ہے۔یوں دہشت گردی اور بغاوت میں کیا فرق ہے اس کافرق سمجھنے کے بعد ہی اسے کنٹرول کرنے کا تریاق ڈھونڈنا ہوگا۔پاکستان کو اپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جہادی عناصر ہمارے لئے خطرہ و سم قاتل بن چکے ہیں۔اس پر مستزاد یہ کہ عالمی طاقتیں ہمیں روند دینے کے درپے ہیں کیونکہ اسلامی دنیا کا واحد جوہری بم سامراجیوں کے سینے پر سانپ بن کر دوڑ رہا ہے۔لاس اینجلس ٹائمز نے حال ہی میں ایک تحقیقاتی رپورٹ مرتب کی ہے جس میں کہا گیا کہ عراق اور افغانستان کے بعد بش کا اگلا شکار پاکستان ہے۔اس سے پہلے سامراج یا انکے حواری چاہے فوجی وردیوں میں ملبوس ہوں یا جہادی عناصر کی شکل میں کوئی جلوہ دکھا جائیں ہمیں بیدار ہونا پڑے گا۔دہشت گردی تخریب کاری کی ان وارداتوں کا نام ہے جن کے زریعے دہشت گرد حکومت وقت سے نظریاتی مذہبی یا سیاسی تفاوت کی بنا پر لوگوں میں خوف و ودہشت پھیلاتے ہیں۔دہشت گرد سرکاری فورسز کے ساتھ براہ راست پنگا لینے کی کوشش نہیں کرتے۔دہشت گردوں کو نہ تو مقامی ابادی کی حمایت درکار ہوتی ہے اور نہ ہی وہ خون بہاتے وقت کسی مخصوص گروہ کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔دہشت گرد ریاست کے کسی حصے پر بھی قابض نہیں ہوتے اور نہ ہی ان میں اتنی صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ مقامی ابادی کو یرغمال بنالیں۔بغاوت ایسی پہیم فتنہ گری کانام ہے جب باغی عناصر حکومت وقت کے نظریات سے اختلاف کی بنا پر اسے بزور قوت گرانے کی سعی کرتے ہیں۔باغی دہشت گردی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔دہشت گردی اور بغاوت کا ہمیشہ تعلق نہیں ہوتا لیکن باغی گوریلے دہشت گردی سے اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔باغی گروپوں کو بیرونی ہاتھوں کی دستگیری بھی حاصل ہوتی ہے۔ریاست کی سیاسی یا دینی جماعتیں باغی گروپوں کی خاموش حمایت کرتی ہیں۔علاقائی ابادی کا کچھ حصہ باغیوں کا سپورٹر ہوتا ہے اور باغی اپنی کاروائیوں سے پہلے ریاست کے کچھ علاقوں کو اپنے تسلط میں لانے اور وہاں اپنی راجدہانی قائم کرنے کی کوشش میں تن من دھن کی بازی لگا دیتے ہیں۔پاکستان میں روزانہ دس افراد دہشت گرد گدھوں کی خوراک بن رہے ہیں۔ زرہ سوچئے کہ اب تک 12129 معصوم و مجذوب پاکستانی دہشت گردوں کے خونی پنجوں میں سسک سسک کر جان کی بازی ہار بیٹھے۔پچھلے نو مہینوں میں4141 پاکستانی دہشت گردی کے جہنم میں جل کر راکھ ہوگئے۔پچھلے سال تحریک نفاز شریعت محمدی نے سوات کے پچپن علاقوں پر قبضہ کرکے وہاں خود ساختہ امارت قائم کردی۔14دسمبر2004 کو پاکستان سے تعلق رکھنے والے طالبان کی چالیس رکنی شوری نے بیت المحسود کو اپنا خود ساختہ امیرالمومنین بنا ڈالا۔شمال میں دریائے گومل اور جنوب میں دریائے ٹوچی تک کا گیارہ ہزار مربع کلومیٹر پر اسلامی امارت کا قیام عمل اچکا ہے۔صوبہ سرحد کے چوبیس میں سے کم ازکم بیس میں طالبان کے ڈیرے موجود ہیں۔ڈیرہ اسمعیل خان شانگلہ کوہاٹ اور لکی مروت پر عسکریت پسندوں کا کنٹرول ہے۔درہ ادم خیل میں پاک فوج لشکر جھنگوی سوات میں تحریک نفاز شریعت محمدی کے جنگجووں اور مقامی طالبان جبکہ وانا میں تحریک طالبان کے خلاف جنگ کررہی ہے۔پاکستان کے سرحدی اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی اور بغاوت دونوں موجود ہیں۔جنوبی اور شمالی وزیرستان میں دہشت گردی پر بغاوت غالب ہے جبکہ باجوڑ اور مہمند ایجنسیوں میں باغیوں کا پلڑہ بھاری ہے۔دریائے سندھ کے مشرقی علاقوں میں دہشت گردی کا عنصر غالب ہے۔دہشت گردی اور بغاوت کو کچلنے کے لئے ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں ہیں۔پاکستان ایف سولہ جہازوں کی خرید پر پنتالیس ارب ڈالر اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی خریداری پر پچپن کروڑ ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرچکا ہے۔ایف سولہ جہازوں کی سروس پر نواسی کروڑ ڈالر پھونکے جارہے ہیں۔ہم اسلحے کی خرید پر چار عشاریہ پچپن ارب ڈالر خرچ کرچکے ہیں۔قرائن سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ اس اسلحے کے استعمال کی نوبت نہ ائے گی۔ہماری سرکار خودکش حملے میں مرنے والے کم نصیب کو تین لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرتی ہے جبکہ دشمنان پاکستان ایک خود کش بمبار کو بارہ سے پندرہ لاکھ کی خطیر رقم سے نوازتے ہیں۔دہشت گردی اور بغاوت کے ناسور کو کچلنے کے لئے حکومتی ادارے اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں لیکن دوسری جانب قبائلی علاقوں میں پسماندگی و درماندگی کے خاتمے کی کوئی کوشش نہیں کیجاتی۔جہاں عوام کو معاشی و سماجی انصاف نہیں ملتا وہاں انسانی نفسیات کی رو سے عوام کے دلوں میں باغی عناصر کے ساتھ ہمدری کے جذبات ابھرنا فطری عمل ہے۔سقوط ڈھاکہ کے اصل اسباب کا پوسٹ مارٹم کیا جائے تو یہ نقطہ اموختہ ہوتا ہے کہ مرکزی سرکار نے بنگالیوں کے دفاع کی طرف توجہ دی اور نہ ہی انکے معاشی استحصال کو روکا گیا۔پاک فوج کے بے رحمانہ روئیے نے بنگالیوں کے دلوں میں بغاوت کے جذبات پروان چڑھائے۔اور یہی جذبات مکتی باہنی کی تشکیل کا سبب بنے جس نے بعد میں بھارت کی مدد سے پاکستان کے خلاف بغاوت کردی اور ڈھاکہ ہمیشہ کے لئے سقوط کی صلیب پر جھول گیا۔ارباب حل و عقد کو دہشت گردی اور بغاوت کے خاتمے کے لئے فاٹا اور شمالی علاقہ جات میں اپریشن کی بجائے عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی میز سجانا ہوگی علاوہ ازیں حکمرانوں کو فاٹا میں ترقیاتی کاموں اور روزگار کے وسائیل مہیا کرنے ہونگے ۔مدرسوں کا سحر توڑنے کے لئے وہاں جدید سائنسی تعلیم کے ہزاروں ادارے قائم کرنے ہونگے تاکہ وہاں کے نوجوان دہشت گرد باغیوں کے ہتھے نہ چڑ ھ سکیں۔صدر مملکت اصف علی زرداری نے امریکہ سے وطن واپسی پر کہا کہ ہم دہشت گردوں کو کچل دیں گے۔ادھر پاک فوج کے سربراہ بھی فاٹا میں اپریشن کی کامیابی کے لئے پرعزم ہیں لیکن پاک فوج کے پالیسی سازوں اور پی پی سرکار کو حکیم بقراط کے قول کی روشنی میں ریاستی قوت کے استعمال کی بجائے صبر و تحمل کا دامن تھام کر اگے بڑھنا چاہیے کیونکہ لوہا جنگ کے ایام میں تو قیمتی ہوسکتا ہے لیکن سونا ہمیشہ قیمتی سمجھا جاتا ہے۔اگر ہم اٹھتیس سال پہلے سقوط ڈھاکہ کے اسباب کے تناظر میں قبائلی علاقوں میں پائے جانے والے عسکریت پسند نظریات اوربغاوت کا عمیق نظروں سے مشاہدہ کریں تو حالات کا دھارا چیخ چیخ کر صدائیں دے رہا ہے کہ فاٹا کے گھمبیر مسائل کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔کیونکہ سقوط ڈھاکہ کے دوران بھی اہل علم و دانش نے حکومتی دولہوں کو بارہا مرتبہ سیاسی حل کی راہ دکھانے کی مساعی جلیلہ کی تھیں لیکن حکمرانوں کے محلات کا راوی سکھ چین کی بانسری بجاتا رہا۔یوں ہمارا شیرازہ بکھر گیا۔دہشت گردی اور بغاوت کی داستانوں نے پوری قوم کو ادھ موا کردیا ہے۔قوم کی دلی تمنا ہے کہ زرداری جہادیوں کو کچلنے کی بجائے سیاسی افہام و تفہیم سے گھمبیرتا کی سلجھن ایجاد کریں بقراط نے اس طرز عمل کو اچھے سردار کی نشانی اور نیکی سے تشبہیہ دی تھی۔ زرداری اگر فہم و فراست اور صبر و تحمل سے فاٹا کو سیاسی طریقے سے دہشت گردی اور بغاوت کی بجائے بھائی چارے اور امن و سکون کی جائے پناہ بنانے میں کامیاب ہوگئے تو انکا شمار نہ صرف انسانی تاریخ کے لازاوال سردار ان اقوام میں ہوگا بلکہ رب العالمین کی رحمتیں و شفقتیں بھی انکے اکاونٹ میں شہاب ثاقب کی تیزی سے درج ہوتی رہیں گی۔

















0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment