Urdu News – Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News – Online Urdu News Paper header image 2

وار آن ٹیرر‘‘ کا عذاب ‘ کالم ‘ محمد خلیل الرحمٰن قادری

September 25th, 2008 · No Comments

پاکستان وار آن ٹیرر میں جب سے امریکہ کا اتحادی بنا ہے رفتہ رفتہ اس کا مستقبل مخدوش تر ہوتا جا رہا ہے دن بدن اس کے شہر اور قصبات غیر محفوظ تر ہوتے جا رہے ہیں پاکستانی افواج وارآن ٹیرر کے نام پر اپنے قبائلی علاقوں میں خواہ خود آپریشن کریں یا نیٹو فورسز ان علاقوں پر تمام معاہدوں اور قوانین کو تہہ وبالا کر کے براہ راست حملہ آور ہوں نتیجۃً بھاری تعداد میں ہمارے معصوم شہریوں کا خون بہہ رہا ہے ان شہریوں میں خواتین بچے اور بوڑھے شامل ہیں اب تک ان علاقوں کے لاکھوں مکین اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں اور کیمپوں میں فاقہ مستی اور محرومیوںکی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں اگر فوجی آپریشن میں ہمارے جوان شہید ہوتے ہیں تو وہ بھی ہمارا ہی زیاں ہے اس منحوس وار آن ٹیرر کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ فوجی آپریشن اور نیٹو فورسز کے حملوں کے ردعمل میں جو خود کش حملے ہوتے ہیں ان کا نشانہ بھی مختلف شہروں میں ہمارے ہی لوگ بن رہے ہیں۔یہ ایک ایسی محیر العقول جنگ ہے جس میں ہم خود ہی حملہ آور ہیں اورخود ہی نشانہ ہیں۔مارنے والے بھی ہم ہیںاور مرنے والے بھی ہم ہیں جن دہشت گردوں کی تلاش میں امریکہ نے نائن الیون کے بعد وار آن ٹیرر شروع کی تھی اس کے شعلے اب پاکستانی قبائلی علاقوں تک بھی پہنچ چکے ہیں امریکہ کو اپنی تمام تر طاقت استعمال کر لینے کے باوجود اتنے سالوں میں نہ تو ان مردان مطلوب کا سراغ مل سکا جنہیں وہ نائن الیون کا ذمہ دار قرار دیتا ہے اور نہ ہی اس سے القاعدہ کا نیٹ ورک ٹوٹ سکا ۔حالت یہ ہے کہ افغانستان میں نیٹو فورسز کی بھاری نفری بے بس دکھائی دے رہی ہے اور اب عراق سے تیس ہزار فوجی افغانستان میں بھیجے جا رہے ہیں تاکہ دہشت گردی کے عفریت پر قابو پایا جا سکے ۔تمام تر سرپرستی اور پشت پناہی کے باوجود امریکہ کے کٹھ پتلی صدر حامد کرزئی کی حکومت کابل اوراس کے قرب وجوار تک محدود ہے اور اب امریکہ بہادر کے بقول یہ مردان مطلوب پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جا چھپے ہیں اور وہاں انہوں نے محفوظ پناہ گاہیں تلاش کر لی ہیں امریکہ نائن الیون سے پہلے بھی محفوظ تھا اور نائن الیون کے بعد بھی وہاں دہشت گردی کی کوئی قابل ذکر واردات وقوع پذیر نہیں ہوئی جب کہ پاکستان کی سرزمین جو خود کش حملوں کی اصطلاح سے ہی ناآشنا تھی نائن الیون کے بعد خود کش حملوں کا مرکز بن گئی ہے حد یہ ہے کہ اسلام آباد جیسا شہر بلکہ اس کے حساس ترین مقامات بھی محفوظ نہیں ہیں مہلک بارود سے بھراہواایک ڈمپر پورے شہر کی گشت کر کے اس حساس علاقے میں داخل ہو جاتا ہے اور میریٹ ہوٹل سے ٹکرا کر وسیع پیمانے پر تباہی مچا دیتا ہے چشم زدن میں درجنوں معصوم اور بے گناہ لقمۂ اجل بن جاتے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہو جاتے ہیں میریٹ ہوٹل توتباہ و برباد ہوتاہی ہے دھماکے سے اردگرد کی املاک کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور پوری قوم کف افسوس ملتی رہ جاتی ہے ۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ دہشت گردوں نے یہ مواد کہاں سے حاصل کیا اور اس مہلک مواد کی نقل وحمل کو کیسے یقینی بنایا ؟کیا وہ یہ مواد خود کسی کارخانے میں تیار کر رہے ہیںیا کوئی ہمارا مہربان انہیں یہ سب کچھ مہیا کر رہا ہے اگر یہ مواد ان کے اپنے کارخانوں میں تیار ہوتا ہے تو یہ کارخانے کہاں واقع ہیں اور خام مال کہاں سے آتا ہے ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو تیار شدہ یہ مواد آخر کہاں سے حاصل کرتے ہیں ؟’’محفوظ پناہ گاہوں ‘‘میں رہتے ہوئے ان دہشت گردوں کے پاس اس مواد کی خریداری کے لیے رقوم کہاں سے آتی ہیں ؟صاف ظاہر ہے کہ اس مواد کی خریداری قانونی طور پر تو ممکن نہیں ہے پھر غیر قانونی طور پر انہیں یہ مواد فروخت کرنے والے ہاتھ کون ہیں؟اس مہلک اور آتشیں مواد کی خریداری ہی مسئلہ نہیں اس کی نقل وحمل بھی بہت بڑا مسئلہ ہے ملک کے طول وعرض میں پھیلی ہوئی چیک پوسٹیں جہاں سے ایک شریف آدمی اپنی کار میں بھی مضحکہ خیز سوالات کا سامنا کیے بغیر نہیں گزر سکتا اور بسااوقات اسے اپنی گاڑی کی تلاشی بھی دینی پڑتی ہے وہاں سے آتش اور مہلک مواد سے بھرا ہوا ٹرک کیسے بلا روک ٹوک گزر گیا پھر اس حملہ کی اطلاعات تمام خفیہ ایجنسیوں کو تھیں جس کے پیش نظر سیکیورٹی کا بھرپور انتظام کیا گیا تھا اور اطلاعات کے مطابق اسی دن بالخصوص اسلام آباد کے اس حساس علاقے میں سیکیورٹی ریڈ الرٹ تھی۔پھر یہ دہشت گرد مہلک اور آتشیں مواد کاڈمپر لے کر کیسے اس حساس علاقے میں داخل ہو گئے؟

معاف کیجیے گا اگر دہشت گرد اسلام آباد کے اس حساس علاقے میںداخل ہو کر بڑے اطمینان کے ساتھ کاروائی کر سکتے ہیں تو کم از کم پاکستان ان دہشت گردوں سے نہیں لڑ سکتا ہمارے وزیراعظم نے الٹ کہہ دیا ہے کہ ہم امریکہ سے نہیں لڑ سکتے امریکہ سے تو لڑا جا سکتا ہے کیونکہ اس کی افواج آپ کے سامنے ہیں اور وہ سامنے سے آکر آپ کی فضائی اور زمینی حدود میںداخل ہو رہی ہیںلہٰذا اس سے لڑا جا سکتا ہے نتیجہ خواہ فتح ہو یا شکست لیکن ان سے کون لڑے جن کے ٹھکانوں کا افواج پاکستان کو بھی پتہ نہیں چل رہا جب کہ ان کے جیالے جب جی چاہتا ہے اسلام آباد کے حساس ترین علاقے میں آتشیں مواد سے بھرا ڈمپر لے کر داخل ہو جاتے ہیں اور اپنے ہدف کو چشم زدن میں نیست ونابود کر دیتے ہیں کل وہ افغانستان میں چھپے ہوئے تھے پھر وہ نیٹو فورسز کی آنکوں میں دھول جھونک کر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جا چھپے ہیں اور افواج پاکستان کی طرف سے بے رحم آپریشن کے باوجود وہ زندہ یا مردہ ان کے ہاتھ نہیں لگ رہے جب کہ ان کے جیالے مسلسل دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے میں کامیاب ہیں کیا پتہ کہ کل کو یہ ایران میں گھس جائیں اور نیٹو فورسزان کا تعاقب کرتی کرتی وہاں جا پہنچیں کیونکہ ان کے پاس اس کھیل نما جنگ کو طویل مدت تک جاری رکھنے کے لیے ذرائع موجود ہیں اگرچہ یہ کہا جا رہا ہے کہ آج کل امریکہ اقتصادی بحران کا شکا ر ہے لیکن بڑے لوگوں کی بڑی باتیں ہوتی ہیںاسے اسرائیل اور یہودی لابی کے ہوتے ہوئے فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ اسے اس بحران سے نکال لیں گے اور وہ تازہ دم ہوکر اس جنگ کو جاری رکھ سکے گا بالکل اسی طرح جیسے عراق میں وہ اپنے 43000فوجیوں کو سکون آور ادویات کھلا کر تازہ دم کر دیتا ہے اور وہ مزید ایک دن کے لیے وارآن ٹیرر میں حصہ لینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔مسئلہ تو ہمارے لیے ہے ہم نے اس جنگ میں امریکہ کا اتحادی بن کر کیا حاصل کیا ہے؟

بدترین اقتصادی بحران اپنے بھیانک جبڑے کھولے پوری قوم کو ڈرا رہا ہے ہمارے فارن ایکسچینج ریزروز اس قدر سکڑ گئے ہیں کہ ان سے بمشکل ایک ماہ کے امپورٹ بل کی ادائیگی ہو سکے گی یوں بدترین ڈیفالٹ کے منحوس سائے ہماری معیشت پر رقص کر رہے ہیں غیر ملکی سرمایہ کاریہاں کیا لینے آئیں گے؟خوف سے اپنے سرمایہ کار بھی اپنا سرمایہ باہر منتقل کر رہے ہیں عوام کو ہوش ربا مہنگائی لوڈ شیڈنگ اور آٹے کی قلت کا سامنا ہے پوری قوم خوف و ہراس میں مبتلا ہے ہم نے امریکہ کی خاطر اس کی جنگ کو اپنی جنگ بنا لیا ہے لیکن امریکہ ہم سے پھر بھی خوش نہیں ہوا اور اس کا تقاضہ Do Moreہے اب اس نے ہماری خود مختاری پر حملے شروع کر دئیے ہیں امریکی آرمی چیف ایڈمرل مائیک مولن اور اب زرداری۔ بش ملاقات میں صدر بش نے بھی ہماری خود مختاری کے تحفظ کی یقین دہانیاں کرائی ہیں اور ہماری خود مختاری کے احترام کے دعوے بھی کیے ہیں لیکن ہمارے قبائلی علاقوں میں براہ راست حملوں سے باز آنے کی کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی جا رہی جس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ امریکہ قبائلی علاقوں پر حملہ آور ہونے کو اپنا حق سمجھتا ہے اور اسے ہماری خود مختاری پر حملہ تصور نہیں کرتا شاید یہ وہ آخری سزا ہے جو پاکستان کو امریکہ کا اتحادی بننے کے جرم میں بھگتنا پڑے گی۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری خطائیں معاف فرمادے اور رمضان المبارک کے اس آخری عشرے کے تصدق سے ہمیں مزید سزاؤں کے عذاب سے بچا لے۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو