
کسی بھی مسلہ کی بروقت اطلاع اور صیح رپورٹنگ صحافی کا اصل منصب ہے ۔صحافت کی راہ میں حائل روکاوٹیں دور کرنے کی بجائے اور صحافیوں کو کسی بھی ناخوشگوار لمحہ کی ریکاڈنگ سے روکنا حکومت کے فرائض منصبی میں اولین ترجیح ہے ۔صحافی خواہ وہ پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھتا ہو کسی اخبار کا رپورٹر ،کیمرہ مین یا الیکڑانک میڈیا کا فیلڈ رپورٹر یا کیمرہ مین ہو کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار دعمل کے ساتھ طریقہ کار کی روک تھام حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی شاید نہیں ۔وزیر اعظم ہوں یا صدر مملکت سب کی یہی خواہش ہے کہ میڈیا بس ان کی ہاں میں ہاں ملاتا جائے اور ان کے غلط و صیح کو من و عن تسلیم کر کے عوام کو سب اچھا کی رپورٹ دے ۔حکومتی اراکین و عمائدین کی یہ خواہش رہی ہے کہ ان کے دور کو حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور سے تشبہہ دی جائے حالانکہ وہ حجاج کے دور کی عکاسی کر رہے ہوتے ہیں ۔حکومت میڈیا کے افراد کے تحفظ کیلئے کوئی بھی اقدام حکومت یا ادارتی سطح پر کرنے کیلئے کوئی مثبت اقدام نہیں اٹھارہی ۔فقط کاغذی پھولوں سے حکومت اوراس کے طفیلی ،صحافیوں کو خوشبو سنگھانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے ۔کاغذی پھول وقتی طور پر زیبائش کاسبب تو ہو سکتے ہیں لیکن حقیقی معنوں میں پھول کا نعم البدل نہیں بن سکتے کیونکہ وہ حقیقت میں رنگ و بو سے محروم ہوتے ہیں ۔ملک میں جمہوریت کی جنگ میں جتنا کردار سیاسی حضرات نے ادا کیا ہے اس کہیں زیادہ میڈیا نے اس کو اگے بڑھایا ہے ۔عوام میں جمہوریت اور آمریت کے درمیان فرق میڈیا نے عوام کو دیا سیاسی افراد کا اس میںکوئی بھی حصہ نہیں ۔سیاسی تحریکوں میں صحافی لوگوں کو مالی جانی نقصیانات اٹھانے پڑے ،حکومت کی طرف سے انہیں ہر طرح کی بندشوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن سیاسی لوگ اپنی منزل اقتدار تک رسائی کے بعد اسی میڈیا کو آڑے ہاتھوں لینا چاہتے ہیں۔وزیر اعظم نے فقط صحافیوں کے نمائیندہ بڑوں کو افطار ڈنر پر مدعو کرکے میڈیا سے اپنے تعلقات کو خوشگوار بنانے کی ترکیب ضرور آزمائی ہے ۔صحافیوں سے اپنی ذمہ داری کی ادائیگی کی توقع کرتے ہوئے انکو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردارادا کرنے کیلئے کہنے کا مقصد یہی ہو سکتا ہے کہ صحافی اس سے پہلے اپنے فرض کی ادائیگی سے غافل یا ناآشناہیں ۔وزیر اعظم محترم ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میںصحافتی حلقوں بلخصوص کالم نگاروں نے جو کردار ادا کیا ہے اس کیلئے انہیں ستائش کی ہرگز ضرورت نہیں ۔دہشت گردوںکے اصل روپ کو بے نقاب کرنے کیلئے اپکی وزارت داخلہ اور مواصلات سے کہیں اگے کردار صحافی برادری نے ادا کیا ہے ۔صحافیوں کی تحریروں سے ہی دہشت گردوں کے اسلامی نقاب کو بے نقاب کر کے عوام کو ان کی اصل شناخت دکھلانا ممکن ہو ا ہے۔ملک میں امن امان کی ذمہ داری اور جرائم کی نشاندہی میڈیاکی ذمہ داری ہے لیکن اس پر قابو پانا وزارت داخلہ اور اسکے ماتحت اداروں کی ڈیوٹی ہے ۔وزارت داخلہ اگر یہ چاہتی ہے کہ مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ان کے حل بھی میڈیا اورصحافی ہی تجویز کریں تو صحافی یہ پوچھنے میں ہوگز کوئی عار اور باک محسوس نہیں کریں گے کہ پھر اختیار واقتدار کی مالا پہننے اور ان مراعات کی گنگا میں نہانے کا انہیں حق کیونکر ہو گا؟اگر ملک میں تمام مسائل کا حل تلاش کرنے کی ذمہ داری بھی میڈیا پر عائد ہوتی ہے تو پھر ان کی یہ تنخواہیں گریڈاور مراعات کس ضمن میں ہیں ۔حکومتیں کیوں بنائی جاتی اورادارے کیوں عوام کے خون پسینے کی کمائی کو اپنی شان وشوکت اورکروفر کیلئے شیر مادر کی طرح ہضم کرنے میں مصروف ہیں۔عوام کے ساتھ لفظوں کی جنگ کھیلنے کی بجائے اگر حکومت کے عمائدین اور اکابرین اگر خدمت کی سیاست کو اپنا ایمان بناتے تو شاید حالات کی نوعیت کچھ اور ہوتی ۔اپنے کندھوں کا بوجھ دوسروں پر ڈالنے کا انجام یہی ہوتا ہے ۔پرائے کندھے پر رکھ کر لگائے گئے نشانے اکثر خطاجاتے ہیں ۔جس کی جو ذمہ داری ہے جب تک وہ اس کو نبھانے کیلئے اگے نہیں آئے گا وہ ذمہ داری کبھی بھی ادا نہیں ہو سکتی ۔اسلام قضا شدہ فرائض کو ادا کرنے کی ترغیب و تلقین کرتا ہے ۔ہمیں یہ سبق سکھایا گیا ہے کہ اگر انسان سے کوئی غلطی اورکوتاہی ہو جاتی ہے تو وہ اس کو تسلیم کر کے اللہ تعالی سے اسکی معافی چاہے تو اسکو معافی مل جاتی ہے ۔اسلام میں منافقت اور شراکت کی ہر گز گنجائش نہیں ۔یہی دو چیزیں ناقابل معافی ہیں۔ہم ہر درجہ منافقت میں اگے بڑھ چکے ہیں اوراسی طرح خالق کائنات کے خوف اور ڈر کے ساتھ امریکہ کی شراکت نے ہمیں ناقابل معافی مجرم بنارکھا ہے ۔ڈر اورخوف فقط اللہ کیلئے ہے۔جو اللہ سے نہیں ڈرتا وہ سب سے ڈرتا ہے ۔ہمیں اقتدار کے جانے اورعہدوں کے چھن جانے کا خوف ہے لیکن اقتدار اور اختیار سے منسلک ذمہ داریوں کی عدم ادائیگی کا ذرا بھر بھی ملال نہیں ۔کیا حکومت وقت اپنی خارجہ پالیسی او رداخلہ پالیسی کو اجاگر کرنے میںکامیاب ہے ۔ ہمیں معلوم نہیں ہوسکا کہ ہمارے صدر مملکت کے اثاثہ جات کی نوعیت اس عہدہ کے سنبھالنے سے پہلے کیا ہے اوراسکے بعد کیا ہو گی ؟ہمارے اراکین اسمبلی اقتدار و اختیار کے سنگھاسن میں داخل ہونے سے قبل کیاتھے اور بعد میں کیا اور کیسے ہوجاتے ہیں ؟ملک کو داخلہ اور خارجہ امور کے سلسلے میںاپنی پالیسی وضح کرنے میں اتنی تاخیر کاسبب یہی ہو سکتا ہے کہ ہمارے حکمران فقط اقتدار کے حصول کیلئے بے چین ہوتے ہیں انہیں حکمرانی کے تقاضوں سے کوئی آشنائی نہیں ہوتی۔ترقی یافتہ ممالک اپنے سربراہ کے انتخاب سے پہلے اس کی پالیسیوں کو سننا اور پرکھنا ضروری خیال کرتے ہیں۔ہمیں صرف دفتر خارجہ اور مشیر داخلہ کے ارشادات پر گذارا کرنا ہوتا ہے ۔محترم صدر صاحب نے انتخاب سے پہلے اور قومی انتخابات کے موقع پر بار بار فرمایا تھا کہ وہ چہرے نہیں نظام بدلنے کے خواہش مند ہیں ۔گھر میں اگ لگی ہوئی ہے اور وہ غیر ملکی دورو ںمیںمصروف ہیں جبکہ نظام حکومت گذشتہ سے پیوستہ ہے ۔وہی امریکہ کی دھمکیاں اور وہی ہماری پرانی گذارشات کچھ بھی تو نہیں بدلا ۔کیا سربراہان و اکابرین نے اپنے اذہان کو تبدیل کرنے کی جانب ایک قدم بھی بڑھایاہے ۔یقین سے کہا جاسکتاہے کہ اگر موجودہ حکمرانوں کو اقتدار کے چھن جانے کا خوف نہ ہو تو وہ پنجاب کی گورنمنٹ کی تبدیلی میں ذرا بھی تامل نہ کریں ۔انہیںاچھی طرح معلوم ہے کہ پنجاب کی گورنمنٹ کی تبدیلی ان کے لیے وبال جان بن سکتی ہے۔اقتدار کو فروغ دینے کی پالیسی کے علاوہ ابھی تک عوام کو کسی بھی تبدیلی کا احساس نہیں ہوا۔اقتدار کی بندر بانٹ میں اپنے اپنے حصے وصول کرنے کیلئے بلیک میلنگ پارٹیاں اپنی چالیں بخوبی چل رہی ہیں۔ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔روپے کی قدر میںبرابر کمی آرہی ہے ۔عوام کیلئے زندگیاں دوبھر ہوتی جارہی ہیں ۔ایسے میں عوامی حکومت کے دعوی دار میڈیا سے کیا توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کے گن گا کر انہیں خلافت راشدہ کا ٹوٹا ہو ا تارہ ثابت کرے ۔حکومت کو خود کو عوامی ثابت کرنے کیلئے عوام کی حالت زار پر توجہ دینی ہو گی ۔حکومت اگر توانائی کے حصول کیلئے ڈیم بنائے گی تو اس سے ملک میں صنعت و تجارت کو فروغ حاصل ہو گا ۔روزگار بڑھے گا اور فی کس آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ایسے میں صحافی کیا ان کے اس عمل کی مخالفت کر سکیں گے ۔ہم تو حکومت کی توجہ بار بار اس امر کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملک میں توانائی کے بحران کو کنڑول کرکے ملکی اقتصادیات و معاشیات کو ٹھیک کیا جاسکتاہے ۔ملک میں لاقانونیت کے خاتمے کیلئے آئین اورقانون کی پابندی ضروری ہے ۔آئین اور قانون کی بالادستی کو گہنانے اور کم کرنے میں ہمارے اکابرین کا سب سے اہم کردار ہے ۔یہ بھی حکومت سے قطعا پوشیدہ نہیں کہ وہ یہ کردار کیسے ادا کرتے اوراس پر کیسے قابو پایا جاسکتاہے ۔ملک میں نجکاری کے عمل سے قومی اثاثہ جات کی فروخت سے نہ صرف ادارو ںکو نقصیان ہورہا ہے بلکہ ساتھ ہی ملک میں مہنگائی بے روزگاری اور ذخیرہ اندوزی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے ۔مائیکرواکنامکس تو تب اپلائی کی جائے جب ملک میں اکنانومی نام کی کوئی چیز بھی ہو ۔اداروں کو تقویت دی جائے اوران میں کام کرنے والے ملازمین کے روزگارکو تحفظ دیاجائے ۔گریڈ ایک سے 14کے چھوٹے ملازمین پر کنڑیکٹ سسٹم کا اطلاق نہ کیاجائے ۔انہیں مستقل قرار دیکر ان کے مستقبل کو محفوظ بنایاجائے ۔تمام اداروں کو ادارتی قوانین بنانے ان پر عمل پیرا ہونے کیلئے پابند کیاجائے ۔ہر ادارے کے ملازم کو حق دیاجائے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والے ظلم وجبر کے خلاف عدالت سے رجوع کر سکے ۔افراد مضبوط ادارے مضبوط اور ملک محفوظ ۔حکمران اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی طرف توجہ دیں ناکہ مداح سرائی کیلئے صحافیوں کو ڈنر کراتے رہیں۔صحافیوں کی زندگیوں میں حائل مشکلات اورانکی تکالیف کے ازالے کیلئے صحافتی تنظیموں اور کالم نگاروں کی تنظیم سے مشاورت کی جائے ۔اب گیند حکمرانوں کے کورٹ میں ہے دیکھیں وہ کیسے کھیلتے اورکھلاتے ہیں۔

0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment