Urdu News – Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News – Online Urdu News Paper header image 2

یہ آج کس مقام پہ ہم لوگ آگئے۔‘ کالم ‘ یو نس مجاز

September 24th, 2008 · No Comments

میریٹ ہوٹل میں ہفتہ کی شب رات آتھ بج کر دو منٹ پر ہونے والا بم دھماکہ جو ایک ٹرک میں رکھے گئے ایک ہزار کلو گرام وزنی بارود سے کیا گیا۔اور جس میں سا ٹھ سے زاہد ملکی اور غیر نلکی ہلاک اور 257 سے افراد شدید زخمی ہو گئے ۔ اس دھماکہ کو نائن الیون کی مماثلت سے نائن ٹونٹی کا نام دیا جارہا ہے کے حوالے سے حکومتی تحقیقات اپنی جگہ جا ری ہیں۔ جن پر ابھی تک مشیر داخلہ رحمنٰ ملک نے محتاط انداز اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد جوبھی تھے۔ اس کا فیصلہ ہوناابھی باقی ہے ۔ان کا ٹارگٹ حکومت پاکستان کی اعلیٰ قیادت تھی ۔کیونکہ اسی روز اس ہوٹل میں ایک ایسی تقریب منعقد ہونی تھی جس میں پاکستان کی تمام ٹاپ کلاس کی قیادت نے شریک ہونا تھا ۔لیکن عین موقع پر صدر آصف زرداری کی ہدایت پر مزکورہ تقریب وزیر اعظم ہاوس منتقل کر دی گئی ۔ جس کی اطلاع شاہد دہشت گردوں کو نہیں تھی ۔جب کہ عوامی سطح پر بہت سی اور پر اسرار کہا نیا ں منظر عام پر آنا شرع ہو گئی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق ا مریکی سی آئی اے کے اہلکار گزشتہ چار ماہ سے اس ہوٹل میں موجود تھے۔اور اس عرصہ میں پراسرار سرگرمیاں جاری تھیں ۔جن میں امریکی اور دیگر ممالک کے افراد ملوث تھے ۔اور ایک سوال یہ بھی اٹھایا جارہا ہے کہ ا یڈمرل مائیکل مولن کے ہنگامی دورہ پاکستان کے موقع پرصندوقوںمیں بھرا پراسرار سامان ہو ٹل میں منتقل کیا گیا جو ایک سفید رنگ کے ٹرک سے آئینی صندوقوں میںبندشدہ اتاراگیا تھا۔ وہ کیا تھا ۔اور کس کی اجازت سے یہاں لایا جا رہا تھا ۔ہماری ایجنسیاں اس وقت کہاں تھیں ۔کیا ان کو اس کے بارے میں معلومات تھیں ۔اگر تھیں تو کیا اس سامان کو چیک کی گیا تھا اگر نہیں تو کیوں نہیں۔ سامان جو ہوٹل کی چوتھی منزل پر رکھا گیا۔دھماکے کے بعد وہ اب کہا ں ہے ۔ ان صندوقوں کے بارے میں بہت سی گوایاں موجود ہیں جن میں ایک وہ جشم دید گواہی اور کہانی ہے جو معروف صحافی انصار عباسی سناتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ ہفتے کی شام جب میریٹ ہوٹل میں حملہ ہوا تو شواہد اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اس وقت ہوٹل میں امریکی میرین فوجیوں کا کوئی خفیہ آپریشن جاری تھا ۔وہ لکھتے ہیں کہ اس کی بظاہر تصدیق تو نہیں ہوئی،لیکن پیپلزپارٹی کے بہت سے ارکان قومی اسمبلی اور ان کے دوست یہ بتاتے ہیں ۔کہ امریکی سفارت خانے کے ایک بہت بڑے سفید ٹرک سے فولادی بکس اتارے گئے تھے ا ور امریکی میرینزکے علاوہ کسی کو ٹرک کے قریب جانے کی اجازت نہیں تھی یہ فولادی بکس ایکنیرزسے بھی نہیں گزارے گئے تھے جو کہ ہوٹل کی لابی کے داخلی راستے پر نصب تھے ان بکسوں کو ہوٹل کی چوتھی اور پانچویں منزل پر منتقل کر دیا گیا ۔ رکن قومی اسمبلی ممتاز گیلانی نے بھی اس منظر کو اپنے دیگر دو ساتھیوں کے ہمراہ دیکھا ۔اور اس پر انھوں نے اعتراض اور احتجاج بھی کیا ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ایک قریب کے ریسٹوررینٹ سے ایک ضیافت کے بعد آدھی رات کو اپنے دوستوں کے ہمراہ ہوٹل سے روانہ ہوئے تھے تو انھوں نے امریکی سفارت خانے کا ٹرک ہوٹل کے مرکز ی گہٹ کے سامنے کھڑا دیکھا۔جس سے اتارا جانے والا سامان اسٹیل بکسسزمیں ہوٹل کے اندر لے جایا جا رہا تھا۔جس کے بارے میں دریافت کرنے کی کوشش کی گئی ۔ممتاز عالم کو اس پر شدید غصہ تھا کہ ایک تو وہ راستہ بند کیے ہوئے تھے دوسراس طرح کے مشکوک بکسسز کی منتقلی انھیں سیکورٹی کی خامیوں کا شا خسانہ دیکھائی دیا ۔ان کے احتجاج پر امریکی میرینز نے کوئی توجہ نہ دی اور ہوٹل کی سکورٹی کے وہ لوگ جن سے انھوں نے رابطہ کیا وہ بے بس نظر آرہے تھے ۔انکا کہنا تھا کہ سیکورٹی عہدہدار ہوٹل اور اس کی سیکورٹی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں ۔آئندہ وہ اس ہوٹل میں کبھی نہیں آئیں گے اور اس معاملہ کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔اس پرسرار کہانی کو اردو کے معاصراخبار کے تجزیہ نگار وحید مراد نے بھی کوٹ کیا ہے ۔ کیا امریکی اس قدر آزاد ہیں کہ وہ جو چاہئے کرتے پھریں ۔اگر حکمرانوں نے ان کے آگے قوم کو گروی رکھ دیا ہے تو قوم کو بتا کیوں نہیں دیتے ۔ پاکستان میں عراق کی طرز پرخود کش حملوں کے بارے میں راقم قبل ازیں بھی اپنے کالموں میں یہ لکھنے کی جسارت کر چکا ہے ۔کہ جس طرح امریکہ وہاں خود کش حملے کروا کر مقامی آبادی کو آپس برسر پیکار کیے ہوئے ہے ۔جہاں شیعہ سنی تنازعات بھی ان ہی سازشوں کی مرہون منت ہیں ۔اور اب پاکستان میں اس طرح کے خود کش حملے کسی مسلمان یا پاکستانی کے نہیں ہوسکتے ۔یہ کام ایجنسیاں ہی کر سکتی ہیں ۔یہ وہ ملک دشمن عناصر اور خفیہ ایجنسیاں ہیں جنھیں امریکہ کی آشیر باد اور سرمایا حا صل ہے ۔جو بے نظیر کے سانحے کے بعدایک اور سانحے کی شاہدمنصوبہ بندی کر رہی ہیں تاکہ ملک کو اندرونی طور پر انتشار کا شکار کر کے بیرونی حملے کی راہ ہموار کی جاسکے ۔ کیونکہ بقول وزیر داخلہ اسی وقت جب دھماکہ ہوا اسی ہوٹل میں ایک بڑی تقریب میں ھکومت کی تمام اعلیٰ شخصیات نے شرکت کرنا تھی جسے عین موقع پر شفٹ کردیا گیا ۔ اگر یہ تقریب بھی وہا ں ہی ہوتی تو پھر کیا صورت حال بنتی اس کا اندازہ ان سیکورٹی کے ذمہ داروں کو کیو ںنہیں۔ اس پر بھی مٹی ڈال دی جائے تو پھر اس سوال کا جواب سیکورٹی کے ذمہ دار کیا دیں گی۔ کہ اتنا بڑا ٹرک پورے اسلام آباد میں گھومتا رہا اور انھیں نظر نہیں آیا ۔یا اسے چیک کرنے کی جسارت نہ کی گئی ۔اور وہ سیدھا ریڈ زون میں داخل ہوگیا ۔کیونکہ اکثر ناکوں پر سیکورٹی اہلکار آج کل عیدی بنانے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں اس لیے انھیں فرصت نہیں شاہد اس لیے ایس پی اسلام آباد کو خود اس عمل کی نگرانی کرنی چایئے تھی اتنے بڑے بلنڈر کے بعد تو اعلیٰ سکورٹی عہدیداروں کو تو اسی وقت مستعفی ہوجا نا چائیے تھا ۔وقت کے سا تھ جوں جوں گرد بیٹھے گی ۔کئی پراسرار کہانیاں منظر عام پر آئیں گی ۔ادھر حکومت نے جہاں چند مشکوک افراد کو حراست میں لیا ہے وہاں ان کے بارے میں اطلاح دینے والوں کے لیے ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ خود کش حملے روکنے کے لیے کوئی ٹیکنالوجی ایجا د نہیں ہوئی ۔لیکن اس واقعہ نے سیکورٹی ہائی الرٹ کی تکرار کا پول کھول دیا ہے ۔ اپنے اس شعر کیساتھ اجازت ۔دوسری طرف مغربی سر حد پر ہمارا ہمدرد ومربی امریکہ روز نئی نئی اٹکھیلیاں کر رہا ہے ۔روز کہتا ہے اب کہ نہیں ماروں گا پھر مارتا ہے ۔ابھی ہمارے پیارے راج دلارے صدر امریکی یاترا پر ہیں ۔ بھلا ہو جنرل اسمبلی کے اجلاس کا کہ جس کی وجہ سے انھیں یہ اعزازحاصل ہو رہا۔اورحضرت بش سے ان کی پہلی ملاقات کا بندوبست ہو گیا۔ ورنہ اتنے بڑے محسن سے اتنی جلدی آشیر باد حاصل کرنے کا موقع کب ملنا تھا۔باقاعدہ بیت کی رسم ادا کرنے کے بعد وطن واپس آنے پر ہی اس سلسلہ میں کچھ کہا جا سکتا ہے ۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو