Urdu News – Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News – Online Urdu News Paper header image 2

صدر مملکت کا پارلیمانی خطاب ‘ کالم ‘ عباس ملک

September 24th, 2008 · No Comments

ملک میں جاری دہشت گردی کے واقعات نے جمہوری تاریخ کا ایک اہم موڑ دھندلادیا۔ملک میں آمریت کا آخری نشان صدر مملکت کے انتخاب کی صورت میں مٹا دیا گیا۔آمریت کے نشان مٹ چکے ہیں لیکن اس کی کسک ابھی باقی ہے ۔جمہوریت کامرہم رکھ دیاگیاہے لیکن اسکی ٹھنڈک سے ابھی دلوں میں سکوں نہیں پہنچایا جاسکا۔سیاسی عمائدین اپنی دلفریب تقاریر سے عوام کے آنسو وقت طور پر توپونچھ ڈالتے ہیں لیکن ان آنسوں کو مستقل روکنے کیلئے ان عوامل کو دور کرنے کی حکمت عملی وضح نہیں کرتے جو ان آنسوں کا بنیادی سبب ہیں ۔اگر باتوں اور تقاریر سے عوام کی مشکلات و تکالیف کا ازالہ ہو سکتا تو یقین سے کہا جاسکتاہے کہ گذشتہ حکمرانوں نے اس سے سلسلے میں کوئی دقیقہ فروگشت نہیں رکھا ۔کردیں گے کی بجائے اگر ہو گیا ہے کا صیغہ استعمال کرنے کی روایت ڈالی جائے تو شاید زیادہ سود مند ہو ۔صدر مملکت کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پارلیمانی روایت کی تکمیل ضرور ہے لیکن اس میں جہاں خارجہ امور اور ملکی داخلہ امور کا لفظی احاطہ کرنے کی سعی کی گئی وہیں پر ٹھوس احکامات صادر کیے جاتے تو زیادہ سود مند ہوتے ۔جہاں تک ملک کی خارجہ پالیسی کے متعلق صدر مملکت کے ارشادات تھے وہ عوام کی حقیقی ترجمانی سے قریب تر تھے۔امن و سلامتی اور دوستی اور بھائی چارے کا حکم دین حق نے دیا ہے ۔پاکستانی عوام اس کے حقیقی مقلد ہیں ۔اقوام عالم کے ساتھ مسابقت کی جو ترجیحات عوام کو دینی اورعمرانی علوم سے مہیاکی گئی ہیں وہ انہی افکارکی نمائیندہ ہیں ۔جمہوریت و آمریت کسی بھی ملک کا داخلی مسلہ ہے اور اس پر کسی بھی دوسرے ملک کو مداخلت کا ہر گز اختیار نہیں خواہ وہ امریکہ ہی کیوں نہ ہو ۔اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق کسی بھی ملک کے داخلی امور میں مداخلت کا کسی کو حق نہیں ۔اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے کسی بھی ملک کو اس کی کو تاہیوں اور غلطیوں کا احساس دلایا جائے ۔اس کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے زریعے مجبورکیا جائے کہ وہ غیر پارلیمانی امور یا عالمی امن کیلئے روکاٹ کو دور کرے ۔اس کے لیے اس ملک سے فقط سفارتی تعلقات منقطع کرنا اور تجارتی امور کی منسوخی ہی کافی ہو گی ۔مسلہ فلسطین اور کشمیرکے حل کیلئے محترم صدر نے اپنی پہلی پارلیمانی تقریر کاا نتخاب کر کے بہتر طرز عمل کا مظاہر ہ کیا ۔اسی طرح عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کو بیان کرنا بھی ضروری تھا ۔امریکہ کی بالادستی کو تسلیم نہ کرنے کی یقین دہانی ایک مثبت طرز عمل قرار دی جاسکتی ہے ۔زندہ قومیں اپنی خودی اور انا کے ساتھ باعزت اور محترم ہوتی ہیں ۔بھارت کے ساتھ تنازعات کی حل کی جانب پیش قدمی کیلئے ڈپلومیٹک زنان استعمال کی گئی جو کہ شاید اتنی پر تاثیر نہیں تھی ۔مسلہ کشمیر اور بھارت کے ساتھ پانی کے مسلہ پر تنازعات کے حل کیلئے ٹھوس حکمت عملی اور پیش قدمی کی ضرورت ہے ۔جب بنیادی مسائل کو ایک طرف رکھ کر ضمنی مسائل کو ترجیح دی جائے ت یقینا اصل مسائل ناقابل حل اور نظر انداز ہو تے رہیں گے۔اسلامی معاشرے میں کسی بھی مہمان خواہ وہ سکھ یاتری ہو یا ہندو سب کے احترام کا حکم موجود ہے ۔کسی بھی مذہب کے مقدس مقام کی تعظیم کرنا اسلامی شعار اورشریعہ کی پابندی کے زمرے میں آتا ہے ۔پاکستان میں کبھی بھی کسی کو ایسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن ان یاتریوں کی صورت میںدشمن عناصر کی آمد کو ہرگز نظر انداز نہیںکیا جاسکتا۔اس طرح ثقافتی طائفوں کی براہ راست آمد اور تجارت کی کھلے عام پالیسی سے بھی ایسے ہی شبہات کو جگہ ملتی ہے ۔محترم صدر صاحب کے خارجہ امور کے سلسلے میں ارشاد کردہ افکار کہ ملک و ملت کے مفاد کو اولیت دینا ان کی اولین ترجیح ہو گی قابل ستائش ہے ۔داخلی امور میں انہیں مداخلت کا اس قدر استحقاق حاصل نہیں جو کہ ایک جمہوریہ کے صدر کو ہونا چاہیے لیکن موجودہ حالات کے تناظر میں انہیں ایک مضبوط پوزیشن حاصل ہے ۔وہ جس پارٹی کے چیئرمین ہیں وہی پارٹی برسر اقتدار ہے ۔اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ انہی کا وزیر اعظم اور انہی کی کابینہ ہے ۔وہ اگر براہ راست حکم جاری نہیں کرتے تب بھی ان کی تجاویز قصر وزارت نظر انداز کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔محترم صدر اگر آپ کے منتخب کردہ وزیر اعظم بغیر حلف اٹھائے ججز کی رہائی کا حکم جاری کر سکتے ہیںتو اور بھی بہت سے ایسے کام ہیں جو ان کے اسی بے ساختہ پن کے منتظرہیں۔داخلی امور میں سب سے پہلے اہم ترین پہلو ہمارے معاشرے میں عدلیہ کا غیر فعال ہو نا ہے ۔ججز کی بحالی کا وعدہ کر کے ججز کی دوبارہ تعیناتی نے معاملہ مشکوک بنادیا ہے ۔ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ان معاملات کو اولیت دی جائے ۔ملک میں جاری لاقانونیت کا تدارک صرف اسی صورت میںہو سکتا ہے کہ عدلیہ ہر قسم کے دباؤ سے آزاد ہو کر ایک منصف کا کردار ادا کرے ۔ججز کو انصاف کی فراہمی کیلئے ضروری ہے کہ نوکری کے تصور سے آزاد ہو کر خود کو منصف ثابت کریں ۔اگر انہیں اپنی ملازمت کے لالے پڑے رہے تو کوئی بھی یقین نہیںکر سکتا اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ عدلیہ انصاف فراہم کر سکے ۔معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ مظلوم کی آواز دبانے کیلئے ہر سمت سے اس کی ناکہ بندی کی جاتی ہے ۔مظلومیت کی کئی داستانیں اخبارت و جرائد میں انصاف کیلئے پکار رہی ہیں لیکن ان کی طرف کوئی بھی صاحب اختیار متوجہ نہیں ۔خواتین کے خلاف جرائم کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہو جانے کا سبب یہی ہے کہ خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کے خلاف انصاف فراہم نہیں کیا جاسکا۔خواتین اور غریب طبقہ کا استحصال کرنے والے پوری طرح سینہ تانے معاشرے میں آزاد گھوم پھر کر پیغام دے رہے ہیں کہ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں سب ٹھیک ہے ۔کسی بھی مجرم پر ہاتھ ڈالتے ہوئے پولیس اور انتظامیہ سوچتی ہے کہ یہ کس برادری سے تعلق رکھتا ہے ۔فریقین میں بھاری طرف دیکھ کر اسکی مالی حالت پر بھی پولیس کے رویے کا دارومدار ہوتا ہے ۔ملک میں مقننہ اور انتظامیہ جب تک خود کو ٹھیک نہیں کرتے اس وقت تک ملکی اور معاشرتی اصلاح کا خواب ایک سرا ب ہی ہو گا ۔یہ حقیقت آپ بھی جانتے کہ ملک کے احتسابی ادارے اب احتساب کے نام پر بلیک میلنگ تک محدود ہو گئے ہیں ۔اس کے زریعے جس سے جو کچھ نکل سکا وہ نکالا بصورت دیگر سب اچھا کہ رپورٹ سے ہی جرائم کو تقویت حاصل ہوئی ہے ۔کیا کوئی احتسابی ادارہ لٹیرو ںکے ساتھ ڈیل یا معاملات طے کرتاہے ۔اربوں کا غبن ہو یا لاکھوں کا اتنے دو اور ضمانت پر رہائی کے بعد پکڑائی نہ دو ۔ایسے احتسابی اداروں کے ہوتے ہوئے معاشرتی سدھار کی توقع عبث ہے ۔معاشرے میں احتسابی ادارے اور امن و امان کی ذمہ دار پولیس کے کارکنان کے رویے دیکھ کر حقیقت میں انسان کی آنکھوں میںآنسو آجاتے ہیں۔ایک عام پولیس کانسٹیبل ہی مان نہیں کیا جاسکتااوپر والوں کی بات کرناتو گناہ کبیرہ میں شمار ہو تا ہے ۔پولیس اپنے ماخذالفاظ کے انتہائی برعکس رویوں کے ساتھ انتہائی بے رحمی گستاخانہ طریقے سے سائل سے پیش آتی ہے کہ ان کا عوامی محافظ ماننے کو جی راضی نہیں ہو تا۔بلاشبہ ان کی کچھ مجبوریاں بھی ہیں لیکن ان مجبوریوں کو اپنے اوپر طاری کر کے اپنے فرض کو بھلا دینا بھی فرائض منصبی کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ۔ایسے میں صدر مملکت سے گذارش کریں گے کہ وہ محکمہ پولیس کو ختم کر کے اسکی جگہ نیا محکمہ قائم کریں تاکہ عوام کو ان فرعون صفت جلادوں سے خلاصی حاصل ہو سکے ۔ٹریفک پولیس کی جگہ وارڈنز سٹی پولیس اور موٹرویز ہائی ویز پولیس کا تجربہ کامیاب رہا ہے ۔اسی طرح روایتی پولیس کی جگہ بھی نئی بھرتی اور نیا محکمہ قائم کیا جائے تاکہ عوام کو سکھ کے لمحات میسر آسکیں ۔محترم صدر صاحب اس ملک کو غریب نے نہیں حکمرانوں اور ان کے حواریوں نے لوٹا ہے ۔کیا ایسا ممکن ہے کہ اس لوٹ سیل کو اب مزید اگے جاری نہ رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا حکم جاری کیاجائے ۔ایک قومی پالیسی وضح کی جائے کہ کوئی سیاستدان انتظامیہ کے معاملات اور اداروں میں مداخلت نہیں کرے گا۔انتظامیہ کو سیاسی عناصر کے چنگل سے علیحدہ آزاد رکھا جائے ۔قیدی نمبر ۴۷۸۸سینڑل جیل راولپنڈی کو اگر یا د نہیں تو پھر کسی سے بھی توقع نہیں رکھی جاسکتی کہ وہ ان معاملات کودرست سمت کی جانب کرنے کی حقیقی فکر سے آشنا ہو گا۔ملک میں غریب عوام کانہ پہلے کوئی ذکر کرتاتھا اور نہ آپ نے کیا ۔پھر بھی پاکستا ن کی خاطراو راسلامی بھائی چارے کی خاطر ہم آپ کو کھپانے اور خود کھپنے کی پوری کوشش کریں گے ۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو