Urdu News – Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News – Online Urdu News Paper header image 2

پاکستان کھپے۔۔۔ یا۔۔۔کھپ جائے؟ کالم ‘ ممتاز حیدر

September 24th, 2008 · No Comments

Mumtaz Haidar

ڈاکٹر آصف زرداری کی ایک لیب ہے ربورٹ تیار کرنے کی،مجھے ایسا لگتا ہے۔وہ بہت کامیاب ڈاکٹر ہے۔ اس نے محترمہ بے نظیر کے بعد جتنے بھی تجربات کئے سب بہت کامیاب ہیں اور سب سے کامیاب تجربہ ہے اپنے جیسی زبان بولنے والے روبورٹ تیار کرنا۔۔۔۔

آپ شیری رحمن کو سن لیں ، بابر اعوان کو لے لیں ، جہانگیر بدر انگریزی والوں کو لے لیں ،اور ایک جیسی زبان بولنے والی محترماؤں کو بولتا سن لیں ،سب کو چھوڑیں اپنے وزیرِ اعظم کو دیکھ لیں ،سب کو لگتا ہے زرداری صاحب نے اپنی لیب میں ایک رنگ والے ڈرم میں ڈالا ، اچھی طرح جمو۔۔را (نمک کو جامن میں ملانا ) کیا۔۔ اور جب سب ایک رنگ میں رنگ گئے ، جب سب کی زبان کا ، دل کا ، دماغ کا ایک ہی رنگ ہوگیا تو انہیں ٹی وی ٹاک شو میں چھوڑ دیا۔

ان سب کی جو مختلف شکلوں، اور مختلف مزاج کے لوگ ہیں جب ایک جیسی باتیں کرتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔۔۔آپ ان سے کوئی بھی سوال کر لیں۔۔ روٹی کا ، جمہوریت کا ، مہنگائی کا ، لاقانونیت کا ، کرپشن کا ، ناانصافی کا ، ان کا ایک ہی جواب ہو تا ہے۔۔ وہ ایسے ہوتا ہے۔ بی بی شہید نے جمہوریت کی راہ میں شہادت دی۔، ہمیں جیلوں سے نہ ڈرائیں ، کوئی حکومت ہماری کرپشن ثابت نہیں کر سکی ، ہم چیف جسٹس افتحار چوہدری کا بہت احترام کرتے ہیں مگر۔۔۔۔۔۔ ہم بھی آذاد عدلیہ چاہتے ہیں ہمارے کارکنوں نے ایسے ہی جانیں نہیں گنوائیں۔۔ سب ہوگا ہم مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔۔ ڈائیلاگ۔۔ سیاسی مصالحتیں۔۔ اور کھلا جھوٹ ہر بات میں کھلا تضاد اور اتنی دوغلی بات کے لوگ سن کر اپنے ہی بال نوچنے لگ جائیں۔۔ اور آج کل ان کی زبان پر ہے آصف صاحب نے گیارہ سال جیل کاٹی۔۔ اور یوسف صاحب نے چار سال تو ایک کا حق ہے وزیرِ اعظم بننا اور دوسرے کا صدر بننا۔۔۔ اس معیار پر رکھتے ہوئے تو پھر میرے حساب سے جس کو پھانسی کی سزا ہوئی ہے وہ تو سپر پاور کا صدر بن سکتا ہے۔۔

سیاسی مقدموں اور سیاسی انتقام کی خوب آڑ ہے۔۔ ڈاکو اور لٹیرے ناحق سیدھے سیدھے ڈاکوں میں اور فراڈوں میں وقت برباد کررہے ہیں۔۔ پہلے سیاست میں آئیں ، اور پھر اس کے بعد جو مرضی کریں۔۔ لوٹ مار مچائیں ، قتل کریں یا غنڈہ گردی کریں۔۔ دوسرا کوئی انگلی اٹھا ئے تو فٹ سے کہ دو۔۔ سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہوں۔لاکھوں ،اربوں کے اکاؤنٹ بھر لو اور پھر نعرہ لگا دو پاکستان کھپے۔۔۔ پہلے لوگ آپ کو پارٹی کا شریک چئیر مین بنائیں گے ،آپ کاغذ کے ٹکڑے پر مرحومہ کی وصیت ثابت کر دیں گے ، آپ اپنے بیٹے کو زرداری سے بھٹو بنادیں گے ، آپ اپنی پسند کا سیدھا سادہ گاؤں کا بانکا وزیرِ اعظم لگا دیں گے ،آپ اپنے من پسند لوگوں کے ہاتھ میں چابک دے دیں گے جس سے ایک ہی طرح کی آواز نکلتی ہے اور قوم کی پیٹھ پر جب اس چابک کی ضرب لگتی ہے تو قوم کو ایک ہی طرح کی تکلیف ہوتی ہے ، مگر پھر بھی لیب سے نکلے روبوٹ کہتے ہیں۔۔ ہمارا صدر وہ ہے جس نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔۔۔۔ پاکستان کھپے ؟ کیسے آپ تو اس کو اتنا کھپا رہے ہیں ، کہ اس کے کان سن ہوگئے ہیں ، پاکستان کے معصوم بچے اور گھریلو خواتین گھر کا چولہا جلاتیں ، بچوں کونہلاتیں دھلاتیں ، صحن میں پوچا لگاتیں اتحادی فوجویں آتی ہیں ہیلی کاپٹر سے اترتی ہیں اور انہیں گولیوں سے بھون جاتی ہیں۔۔ ان کاجرم کیا ہے۔ ان کا جرم یہ ہے کہ ان کے اوپر ایسا صدر مسلط کیا جارہا ہے جو پاکستان کھپے کا ، اور جمہوریت کا نعرہ تو لگا رہا مگر عملی طور پر اس سارے عمل میں صرف اپنا بھلا کر رہا ہے ، بیمار آصف زرداری اب کتنا سر سبزو شاداب ہوگیا ہے۔۔اور اپنے ملک کے بچوں اور عورتوں کے لئے۔۔ امریکہ سے پر زور مذمت۔۔۔ بس ؟ میرے پاکستان کے چھوٹے سے قصبے کے خوبصورت بچوں اور محنت کش عورتوں کی یہ قیمت۔۔۔ صرف ایک پر زور مذمت۔۔ کیا پاکستان ایسے کھپے گا ؟

پاکستان کھپے ؟؟؟؟؟؟؟ کیسے اس کی ایک بیٹی اپنے نیم مردہ جسم کے ساتھ امریکہ کے رحم وکرم پر ہے اور زرداری اور اس کے روبورٹ کہتے ہیں کہ یہ لوگ ملک کو بچانے میں بڑی سمجھداری دکھا رہے ہیں اور زرداری کی صدارت کے لئے ایک موزونیت یہ بھی ہے کہ وہ بہت تحمل مزاج ہوگیا ہے۔۔ ایک لمحے کے لئے سوچیں صدر صاحب آج امریکہ کی قید میں عافیہ صدیقی کی طرح بختاور یا آصفہ آجائیں۔۔ تو کیا آپ تحمل مزاجی کے ایسے ہی نمونوں سے ہمیں نوازتے رہیں گے۔ قبائلی علاقوں میں ہزاروں لاکھوں مرنے والے بچوں میں ایک بلاول بھی ہو تو کیا آپ کی سمجھداری صرف مذمت کرنے تک محدود رہے گی۔۔ ؟

پیپلز پارٹی جیسی لبرل ، عورتوں کے حقوق کی داعی۔۔۔ عورتوں کے ذندہ دفن کئے جانے پر بہت سمجھداری سے خاموش ہے۔پاکستان کو بچانے کے لئے۔۔ منتخب ہونے والے صدر صاحب اور حیران پریشان وزیرِ اعظم صاحب ان عورتوں نے بہت واویلا مچایا ہوگیا ، ان کے دل سے بڑی بددعائیں نکلیںہونگی۔ان کی ہاہاکار سے عرش کانپ گیا ہوگا ، ان کی سسکیوں سے دھرتی ہل گئی ہوگی۔۔ کیا پاکستان اتنے ظلم کے بعد قائم رہ سکتا ہے۔۔ ؟ آپ کا نعرہ پاکستان کھپے ؟ کیا آپ ایمانداری سے یہ نہیں کہ سکتے تھے زرداری اور اس کے دوست رشتہ دار کپھیں۔۔۔ اور قائم دائم رہیں۔

زرداری صاحب بہت کامیاب رہے ہیں ، مشرف سے ذیادہ شاطر نکلے ہیں ، ساز باز میں سب سیاست دانوں کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو کھل کے استعمال کیا ، میڈیا کے بڑے بڑے مہرے جگہ سے سرکا دئے ، اپنی جماعت کے وہ لوگ جن کا عوام میں کچھ تاثر تھا ، جیسے رضا ربانی ، امین فہیم ، اور سب سے بڑھ کر اعتزاز احسن ، ان کو اپنے مطابق سدھا لیا۔۔ اور انہوں نے وہی کیا جو انہوں نے کہا۔۔۔ ججز کو ایک ایک کر کے بحالی کے راستے پر ڈال دیا ، وکیلوں کی پوری تحریک کا ستیاناس کر دیا ، اور اب بڑی کامیابی سے سرکتے سرکتے اس عہدے تک پہنچ گئے جہاں بیٹھ کر وہ صرف اپنے جیل کے دنوں کا انتقام لیں گے۔۔ کیونکہ ہمیں نظر آرہا ہے یہ سب ڈرامہ کس مقصد کے لئے ہورہا ہے۔۔ ورنہ پاکستان کے بچے اپنے جسموں پر برائے فروحت کا بورڈ لگا کر نہ پھرتے ، مشرق کی بیٹیا ں آٹے کے ایک تھیلے کے پیچھے ایک دوسرے سے سرِ عام دست وگریبان نہ ہوتیں ،لوگ غیروں کی گولیوں کا نشانہ یوں غفلت میں نہ بنتے ، گھروں سے لاپتہ نہ ہوجاتے ،کئی ماؤ ں کے لعل یوں ہی سالوں لاپتہ نہ رہتے۔۔۔

آخر جہانگیر بدر کی ایک بات پر ایک ٹاک شو سے مستعار لیتے ہوئے ، فرماتے ہیں۔۔ عمران خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ، لوگ آمر کو قبول کرلیتے ہیں ، منتحب نمائندہ کو صدر نہیں مانتے۔۔اور پھر اپنی انگریزی میں “ وٹ از دِس ڈیمو کریسی “ انہیں بس یہ بتانا ہے کہ جمہوریت کہیں بھی نہیں ہے نہ آمریت میں اور نہ ان جیسے سمجھدار سیاستدانوں میں ، جمہوریت ہوتی تو ہم کچے کاغذ پر غیر مصدقہ وصیت بناتے ؟ اٹھارہ سال کے بھولے سے بچے کو ملک کی سب سے بڑی پارٹی کا چئیرمین بنا دیتے ؟ پہلے اسے زرداری سے بھٹو میں منتقل کرتے پھر اسے سب سونپ کر پڑھنے بھیج دیتے اور کہتے جا بچہ عیش کر تیرے کھانے کو ایک ملک تیار کر رہے ہیں۔۔۔۔ کیا یہ جمہوریت ہے ؟ جہانگیر بدر صاحب جمہوریت کو کیوں ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ جمہوریت ہمارے ملک میں مردہ ہے اور آپ لوگ بھی کیا کریں ،آپ کو عادت ہی لاشوں پر سیاست کرنے کی ہے ، ہمدردیوں کے ووٹ اور ماضی کے نعرے۔۔ یہی ہے سرمایہ ہمارے ملک کی سب سے بڑی پارٹی کا۔

پاکستان کیسے کھپے ؟اپنے اس نعرے کا ہی جواب قوم کو دے دیں۔۔۔ آصف صاحب کو پاکستان کے استحکام کا ایوارڈ نہیں خریدوفروخت کے ماہر ہونے کا تاریخ کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا جاسکتا ہے۔جو پاکستان کھپے کی طرف نہیں ، پاکستان کو کھپانے کی طرف جارہے ہیں۔ویسے بھی پاکستان کی سیاست میں دماغ والوں کا کیا کام۔۔ مخالفوںپر یہ اعتراض ضرور ہے کہ زرداری صاحب کی صدارت میں ان کی دماغی حالت کو نااہلیت گردان رہے تھے۔۔ ایسے لوگوں اور ایسے سیاست دانوں میں کوئی بغیر دماغ کے ہی کامیاب طریقے سے صدارت کا عہدہ اور پاکستان کا نظام چلا سکتا ہے۔۔۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو