
القائدہ اور اسکے بانی پچھلے کئی سالوں سے امریکی احباب سیاست و ریاست اور وائٹ ہاوس کے دیوانوں کے سروں پر بھوت بن کر سوار ہے۔نو دو گیارہ کے بعد دنیا کے کسی کونے کھدرے میں کوئی دنگا فساد خود کش حملہ دہشت گردانہ واردات یا بم دھماکہ ہوجائے تو اسکا الزام القاعدہ کے سر تھوپا جاتا ہے۔پاکستان کے دارلحکومت اسلام اباد میں نائن ٹونٹی کو ہونے والے خود کش حملے کو بھی القاعدہ کی کارستانی کہا جارہا ہے۔ہوسکتا ہے کہ پاکستان میں طوفان نوح کی طرح برپا ہونے والے خود کش حملوں کی ماسٹر مائنڈ القاعدہ ہی ہو لیکن ایک سوال راقم کے عقل و ضرد پر کچوکے مارتا ہے کہ اسامہ کو گرفتار یا ہلاک کرنے کے لئے امریکہ سمیت نیٹو فورسز پچھلے دس سالوں سے حالت جنگ میں ہیں اور امریکہ نے اسامہ کی گرفتاری کے لئے افغانستان اور پاکستان میں لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے لیکن اسامہ اور اسکے ہمنواوں کو ابھی تک تلاش نہیں کیا جاسکا۔امریکہ کے معروف تجزیہ نگار رابرٹ بائر نے اپنے ایک مضمون بعنوان بڑی جنگ میں لکھا ہے کہ اسامہ اور القاعدہ کی اڑ میں امریکی نت نئے کھیل رہے ہیں۔امریکی دانشور کی رائے زنی کے مطابق کہ القاعدہ اتنی ناتواں اور کمزور ہوچکی ہے کہ وہ حملے کرنے کی پوزیشن میں نہ ہے۔اسامہ بن لادن نے 1986 میں گلبدین حکمت یار کی جماعت حزب اسلامی کے پرچم تلے جہاد کا اغاز کیا۔1988 میں اسامہ بن لادن نے اپنے ہم خیال ساتھیوں کو ساتھ ملا کر القاعدہ کی تشکیل کی جس کا مقصد افغان مجاہدین کو اکٹھا کرنا اور اجڑے ہوئے افغانیوں کی فلاح کے لئے فنڈز وغیرہ اکٹھا کرنا تھا۔اسامہ14 مئی1957 کو عود بن لادن کے گھر پیدا ہوئے۔انکے والد نے1930 میں یمن کے علاقے حضرت موت سے سعودی عرب ہجرت کی اور وہاں ایک غریب قلی کی شکل میں اپنے کیریر کا اغاز کیااور محنت کرکے اپنی کمپنی کھڑی کرلی۔پچاس کی دہائی میں لادن کا شمار سعودی عرب کے متمول و امیر لوگوں میں کیا جانے لگا۔اسامہ کی عمر تیرہ سال تھی کہ انکے والد جہاز کے کریش میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔شاہ فیصل نے سعودی عرب کے عنان اقتدار کی طنابیں سنبھالیں تو سعودی عرب معاشی بحران کا شکار ہوگیا۔لادن نے شاہ فیصل کو مفید تجاویز دیں جن کے بل بوتے پر سعودی عرب بحرانی دور سے نکل ایا یوں لادن نے اس عرصہ میں اپنے کاروبار کو مذید وسیع کرلیا ۔اسامہ نے سترہ سال کی عمر میں شادی کی اور ابتدائی تعلیم جدہ سے حاصل کی اور سول انجینیر بنے۔1973 میں اسامہ نے دنیا بھر کے کئی جہادی گروپوں سے تعلق استوار کرلئے اور26 دسمبر 1979 کو جہاد افغانستان میں حصہ لینے کے لئے کابل پہنچے ا وہاں اسامہ نے افغان رہنماوں سے ملاقا تیں کیں اور پھرواپس چلے گئے۔ اسامہ نے سعودی عرب کے امیر لوگوں سے جہاد افغان کے نام پر بھاری امداد اکٹھی کی۔اور باقاعدہ طور پر افغان جہاد میں حصہ لینے کا اعلان کیا ۔1994 میں سعودی عرب نے امریکہ کے دباو پر انکے اثاثے منجمد کردئیے۔اور انکی سعودی شہریت بھی منسوخ کردی۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق1998 میں صدر کلنٹن نے سی ائی اے کو حکم دیا کہ وہ اسامہ کی تمام کاروائیوں کو کچل دے۔سی ائی اے نے اسامہ کی تلاش میں اربوں ڈالر جھونک دئیے.القاعدہ کو نائن الیون کا مجرم گردانا گیا اور امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے سوچی سمجھی سکیم کے تحت افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی.لیکن امریکی جارہیت اور کابل پر جابرانہ تسلط کے سات سال بعد بھی اسامہ کا سراغ نہ مل سکا۔نیٹو فورسز نے اپنی ناکامیوں کا نزلہ پاکستان پر پھینکا اور موقف اختیار کیا کہ اسامہ اور اسکے جنگجو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چھپے ہوئے ہیں۔امریکہ نے ایسی دشنام طرازیوں میں پاکستان کے قبائلی علاقوں پر نصف درجن سے زائد حملے کئے جن میں درجنوں بے گناہ پاکستانی شہید ہوگئے۔امریکہ قبائلی علاقوں سے اسامہ کو برامد کرنے یا پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو تباہ کرنے کا ایڈونچر ر کھیلنا چاہتا ہے.تاکہ امریکی الیکشن میں بش کی جماعت کے جان مکین کو جتوایا جاسکے۔لیکن امریکی قیادت کو جان لینا چاہیے کہ پاکستان نہ تو افغانستان ہے کہ وہ اسے ڈھیر کرلے گا اور نہ ہی قوم پاکستان وطن کی سلامتی کے لئے کسی قربانی سے دریغ کرے گی۔پاکستان جنگی دوراہے پر کھڑا ہے۔ایک طرف امریکہ پاکستان پر حملہ کرنے کا پر تول رہا ہے تو دوسری جانب القاعدہ کے بمبار ملک بھر میں قیامت برپا کئے ہوئے ہیں۔القاعدہ کو دست پا کرنے کے لئے پاکستان ملک بھر کی تمام دینی جماعتوں سے مدد حاصل کرنی چاہیے۔ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے “ گلوبل اٹیچیوڈ پروجیکٹ “ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پچھلے چھ سالوں میں مسلم ممالک میں خود کش حملوںالقاعدہ اور اسامہ بن لادن کی حمایت میں کمی واقع ہوئی ہے۔لیکن اٹھ مسلم ملکوں میں مقیم مسلم اقلیتیں خود کش حملوں اور اسامہ بن لادن کی تائید کرتی ہیں۔لبنان میں چار سال قبل74 فیصد لوگ خوکش حملوں کی حمایت پر کمر بستہ تھے لیکن اب یہ تعداد 22 فیصد ہوگئی ہے۔پاکستان میں سن دو ہزار دو میں 33 فیصد لوگ اسامہ کی کاروائیوں سے متفق تھے تاہم اب یہ تعداد گھٹ کر پانچ فیصد ہوگئی ہے۔انڈونیشیا میں دس فیصد اور نائجریا میں 33 فیصد لوگ خوکش حملوں کی حمایت کرتے ہیں۔2002 کے بعد اسامہ بن لادن کی مقبولیت میں تیزی سے کم ی واقع ہوئی ہے۔لیکن اسکے باوجود موجودہ حمایت بھی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے۔ہمارے لئے پاکستان کا دوسری مسلم ممالک سے علحیدہ جائزہ لینا ضروری ہے۔کہا جاتا ہے کہ القاعدہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود ہے اور اسامہ بھی وہیں روپوش ہے۔القاعدہ کو قبائلی علاقوں کی غاروں میں چھپنے کی کوئی ضرورت نہیں۔القاعدہ کے دیگر مسلم ملکوں سے تعلق رکھنے والے اٹھ ہزار تربیت یافتہ گوریلے پاکستان میں موجود ہیں جو کسی وقت خود کش بمبار بنکر اپنی زندگیاں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔طالبان کے دونوں گروپوں میں القاعدہ ممبران شامل ہیں ۔طالبان کے ایک گروہ میں فاٹا اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند شامل ہیں۔جبکہ دوسرے گروپ میں وہ جنگجو شامل ہیں جو کسی دور میں حکومتی حمایت یافتہ گروہوں کے رکن تھے۔اس رپورٹ کو مرتب کرنے کے لئے انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کیا گیا لیکن یہ طریقہ کار ایسی ریاست میں بیکار ہے جو داخلی خود مختیاری کھو رہی ہو۔ قبائلی علاقوں اور سوات میں پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف معرکہ ارائی کرہی ہے۔سوات میں طالبات کے سکولوں کو بموں سے اڑایا جارہا ہے۔درحقیقت مدرسوں نے تشدد پر ریاست کی اجارہ داری ختم کی ہے۔القاعدہ نے اسلام کے نام پر لوگوں کو فریبب دیا ہے اور القاعدہ اجکل پاکستانی فورسز کے ساتھ پنجہ زن ہے۔القاعدہ یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان جوہری قوت ہے یوں ایسی ریاست پر کنٹرول ضروری ہے۔پاکستان کے زرائع ابلاغ اور سیاست دانوں کو چاہیے کہ وہ القاعدہ کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں پاک فوج کا ساتھ دیں۔علاوہ ازیں پاکستان بھر میں پھیلے ہوئے ہزاروں مدارس کے سربراہوں کو چاہیے کہ وہ بھی القاعدہ کے خود کش حملوں کے خلاف فتوی دیں۔ہماری سلامتی کا جہاز بیچ منجھدہار میں ڈانواڈول ہے اس وقت اس امر کی سخت ضرورت ہے کہ امریکی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری قوم کو سیاسی و نظریاتی بعد المشرقین کو بالائے طاق رکھ کر یکسو ہونا چاہیے۔پاک فوج اور حکومتی اقدامات کو عوامی معاونت کا سہارا دیا جائے۔ حکومتی خوشہ چین قبائلی علاقوں میں اپریشن کی بجائے مذاکرات اور گفت و شنید کا راستہ اختیار کریں۔بھارت کے نوبل انعام یافتہ مفکر امرتا سین نے شائد اسی موقع کے لئے کہا تھا کہ دنیا کے ہر تنازعے کا حل مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہے۔

0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment