
یہ واقع عہد فاروقی کا ہے ۔ایک نوجوان سفر پر نکلا ۔راستے میں ایک پنگھٹ پر درخت کے سائے کے نیچے آرام کی خاطررک گیا۔ اونٹ کے گھٹنے باند ہ کر بٹھادیا۔سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے کچھ ہی دیر میں خواب خرگوش کے مزے لینے لگا ۔کسی آہٹ پر اونٹ بدک گیا۔اور رسی تڑوا کے قریبی کھیت میں جا گھسا ۔فصل خراب کررہا تھا کہ کھیت کے مالک نے آکر خوب پیٹا ۔جس سے اونٹ ہلاک ہوگیا ۔نوجوان کی آنکھ کھلی ،اونٹ نہ پاکر پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر تلاش کیا ۔اونٹ کو قریبی کھیت میں مرا پا کر آپے سے باہر ہوگیا ۔قریب کام کرتے بوڑھے کھیت مالک کے اس اعتراف پر کہ اونٹ اس کے پیٹنے سے ہلاک ہوا ۔نوجوان اور غصے میں آگیا ۔اور بوڑھے کو زمین پر پٹخ دیا ۔جس سے وہ جاں بحق ہوگیا ۔بوڑے کسان کے بیٹوں نے نوجوان کو پکڑ لیا۔ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عدالت میں لے آئے ۔سارا ماجرہ سن کر عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نوجوان کو پھانسی کی سزاسناتے ہوئے، اس کی آخری خواہش پوچھی ،نوجوان نے گزارش کی ۔کہ اس نے ایک قرض اپنے گاؤں میں کسی کا دینا ہے ۔اسے دس دن کی مہلت دی جائے۔ تاکہ وہ قرض اتار سکے ۔نوجوان سے ضمانت طلب کی گئی ۔لیکن مجمع میں خاموشی دیکھ کر افسردہ ہوگیا ۔اسی اثنا میں محفل سے ایک بزرگ اٹھے ۔اور ضمانت دینے کا اعلان کیا ۔ہر طرف سکتہ طاری ہوگیا ۔بزرگ اپنی ضمانت کی توثیق کرتے ہوئے گویا ہوئے ۔جوشخص مرنے سے پہلے قرض اتارنے کا فرض اداکرنا چاہتا ہے ۔مجھے ایسے شخص کی ضمانت دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ۔نوجوان چلاگیا۔مقررہ دن پھر مجمع اکھٹا ہوا ۔شام ہونے لگی ،نوجوان کا کوئی اتا پتا نہیں ۔ ضمانتی بزرگ کو دار پر بلا لیا گیا ۔جلاد کو تختہ کھینچنے کا حکم دینے میں چند ثانیے باقی ہیں ۔مجمع پر سکتہ طاری ہے ۔کیونکہ اس نوجوان کے بدلہ میں جو بزرگ تختہ دار پر بلائے گئے۔ وہ اس وقت کے بہت بڑے عالم ابوذرغفاری رحمت اللہ علیہ تھے ۔سب کی نظریں راستے پر لگی ہوئی تھیں ۔اتنے میں شور اٹھا ۔وہ دیکھو کوئی آرہا ہے ۔جب راستے کی دھول صاف ہوئی ۔تو دیکھا وہی نوجوان اونٹنی پر سوار چلا آرہا ہے ۔قریب پہنچ کر نوجوان نے دیری پر معزرت کرتے ہوئے بتایا اس کی اونٹنی کا تنگ ٹوٹ گیا تھا ۔سواب وہ حاضر ہے ۔مجمع میں سب کی آنکھوں میں خوشی اور غمی کے ملے جلے آنسؤرواں تھے ۔اس سے پہلے نوجوان کو پھانسی کا حکم دیا جاتا ۔بوڑے کسان کے بیٹے آگے بھڑے اور اس نوجوان کویہ کہہ کر باب کا قتل معاف کرنے کی درخواست کی ۔کہ وعدہ ودفا کرنے والا ہمارے باب کا قاتل نہیں ہوسکتا ۔اس کی بھول چوک کو ہم معاف کرتے ہیں ۔۔۔بھولا !جو، اب تک وعدہ شناس کی کہانی سننے میں محو تھا ۔بول اٹھا ۔بابوجی! کس زمانے میں عہد فاروقی کو تلاش کر رہے ہیں ۔جہاں مکروفریب جھوٹ ،دغا ،لوٹ مار کرنے والے سب سے بڑے رہنما کہلاتے ہیں ۔جہاں مقدس دستاویز آئین کوکاغذ کے ٹکڑے اور معاہدوں کو سیاسی بیان اور مفاہمت کا نام دیا جاتا ۔کہ یہ قرآن وحدیث تونہیں ۔ جہاں مذہب کے ٹھیکدار قرآن میں عہد شکنی کی دی گئی، اہمیت کو اس لیے نظر انداز کررہے ہیں ،کہ انھیں دھن دولت اور عہدے مل جائیں ،ہماری توندیں اور بڑھ جائیں ،تو سب ٹھیک ہے ورنہ قبول نہیں ۔جہاں سیاسی رہنما قوم کی سا لمیت کو اپنے بینک بینلس ،انا ،سیاسی نمبرز بڑھانے اوربقاکے ترازو میں تولنے کے عوض قوم کو پاگل ،دیوانہ ،کر پٹ اور وعدہ شکنی کا سنبل بنانے پہ تلے ہوں ۔ بابوجی !ایم کیو ایم اور شیرپاؤکی سمجھ تو آتی ہے ۔ کہ وہ کیو ں ججز کی بحالی نہیں چاہتی ،اور زرداری کی حمایت ان کی مجبوری ہے ۔کیا مولانا فاٹا میں آپریشن بند کروانے کے معاہدہ اور اے این پی صوبہ کے نام کو حقیقی معنوں میں تبدیل کرنے کے معاہدے کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوجائیں گے ؟جس کی آڑ میں تمام حدود پھلانگی جارہی ہیں ۔یا یہ بھی سیاسی بیانات بن کر ہوا میں اڑا دیئے جائیں گے ۔تب یہ سیاسی پارٹیاں اپنے حلقۂ نیابت کو کیا منہ دیکھائیں گی۔۔حیرت تو یہ ہے بابوجی ! کاغذات درستگی اور جانچ پڑتال کے وقت بھی آئین کی تشریح کر کر کے قوم کو الجھانے والے آئینی ماہرین کو دفعہ باسٹھ یاد نہیں تھا۔ یا، وہ صدارتی انتخاب کے بعدآئین کی فدعہ پینتالیس کا انتظار کررہے ہیں ۔جب ایک اور مواخذہ کی ضرورت ہوگی ۔ اور اپنے آپ کو صدر کے لیے موزوں ترین امید وار قرار دینے۔والے ببھی اس لیے ایک دوسرے پر اعتراض کرنے سے گریزاں رہے۔ کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔ ۔۔لندن کے اخبار ٹائمز نے یہ انکشاف کرکے ۔کہ ایٹمی پاکستان کا صدر اس شخص کو بنا یا جارہا ہے ۔جو پاگل ،دیوانہ اور ذہنی ڈپریش کا شکار ہے ۔جو کئی بار خود کشی کرنے کا ارادہ کرچکا ہے ۔اور اس کی یہ حالت ایک سال یا اس سے زیادہ عرصہ برقراررہ سکتی ہے ۔جب کہ ماہر ین نفسیات اس بات پر متفق ہیں ۔کہ جوشخص خودکشی کا سوچتا ہے ،وہ زندگی ایک بار لازمی خودکشی کی کوشش کرتا ہے ۔اخبار کے انکشاف میں ان دستاویزات کو حوالہ بنایا گیا ہے ۔جو آصف علی ذرداری نے اپنے وکیل کے ذریعے برطانیہ کی اس عدالت میں جمع کروائے ہیں۔ جہاں انھیں کرپشن کے ایک کیس میں بنفس نفیس حاضر ہونے کا حکم دیا گیا تھا ۔لیکن ان کے وکیل نے دبئی اور نیویارک کے طبی ماہرین کی تصدیق شدہ میڈیکل رپورٹس عدالت میں پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔ کہ ان کے موکل کی ذہنی حالت اس قدر خراب ہے ۔کہ وہ خود کشی کی کوشش بھی کرسکتے ہیں ۔انھیں جیل میں ذہنی اذیت اور اس قدر ٹارچر کیا گیا ہے ۔کہ وہ پاگل ،دیوانے،اورڈپریشن کا شکار ہیں ۔اس لیے انھیں عدالت میں حاضر ہونے سے طویل عرصہ کے لیے مستشنیٰ قرار دیا جائے ۔اخبارنے اس قوم کے منہ پر طمانچہ رسید کرتے ہوئے ۔یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔کہ ہم پاگل ۔؟دیوانے اور وعدہ شکن قوم ہیں ؟۔وہ کیسے بھولے !بات آصف زرداری کی ہورہی ہے۔ ساری قوم کہاں سے آگئی ؟۔بابو جی ! مجھے بھولا کہتے کہتے آپ خود بھولے لگ رہے ہیں ۔بابوجی!یہ توبتائیں ۔مزدوروں کا سربراہ کون؟ ایک مزدور، ڈاکٹروں کا صدر کون ؟ڈاکٹر ،طالبعلموں کاصدر کون؟طالب علم ،علماء کاصدر کون ؟عالم ،وکلاء کاصدر کون؟۔وکیل ،شرفاء کاصدر کون؟شریف،اورسمگلروں ،بدمعاشوں ۔لٹیروں اور پوڈریوں کا سربراہ کون ؟ ظاہر ہے ان جیسے لوگ ہی ہوسکتے ہیں ،بھولے۔توپھر بابوجی !یہ مان لینے میں کیا حرج ہے۔جس قوم کا سربراہِ مملکت بقول اس کی اپنی حاصل کی اور ایک بین الاقوامی عدالت میں پیش کی گئی میڈیکل رپورٹوں کے ایک پاگل ،دیوانے اور ذہنی مریض کو صدر بنایاجارہا ہے ۔ وہ قوم پاگل ،دیوانی نہیں تواور کیا ہے ۔رہی وعدہ شکنی توبے نظیر کی وصیت جوآج تک قوم کے سامنے نہیں آئی ،سے لے کر امین فہیم کوصدر بنائے جانے کے اعلان سے مکرنے ،مری ڈیکلریشن کو سیاسی بیان قرار دینے ۔عالمی ضامنوں کی موجودگی میں این آر او کے فوائد حاصل کرکے اس سے مکر جانے ، اور ٹی وی پرصدر مشرف کے خلاف دانت پیس پیس کر مواخذے کا اعلان کرتے وقت ججز کی بحالی چوبیس گھنٹوں میں کرنے کے وعدے اور پھر اس معاہدے کو یہ کہہ کر مکرنے تک ،کہ یہ کوئی قرآن وحدیث تو نہیں ۔یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں کہ ایک وعدہ شکن قوم کا صدر وعدہ شکن ہی ہوسکتا ہے ۔ بابوجی !کیا اس بات کو بھی تسلیم کرلیا جائے ۔کہ جنرل ضیاء الحق نے آئین کو کاغذ کا ٹکڑا ٹھیک کہا تھا ؟۔لیکن اسے تو ہم مقدس دستاویز کی توہین قرار دیتے ہیں ۔جنرل پرویز مشرف کا آئین دوبار توڑنے پر کس منہ سے ہم احتساب کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ ایسے میں عالمی سطح پر ہمارے معاہدوں کی کیا حیثیت ہوگی ۔؟ہم پر کون اعتبار کرے گا ۔جب کے پہلے ہی ہم عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوچکے ہیں ۔لیکن کیا ،کیا جائے؟۔ بھولے! جمہوریت میں، نمبرز کی گیم ہوتی ہے ۔ووٹ اصولوں کے ترازو میں نہیں تولے جاتے، بلکہ گنے جاتے ہیں ۔ جس کے پورے وہ جیتا ۔تو اسی لیے بابوجی!میں کہہ رہا ہوں نا۔ہم پاگل ،دیوانے اور وعدہ شکن بھی ہیں ؟۔

0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment