Urdu News – Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News – Online Urdu News Paper header image 2

پاکستان کا سیاسی مستقبل ، موردِالزام مشرّف لیکن اب کون (حصّہ اوّل) ‘ کالم ‘ عبدالرحمن خان

August 30th, 2008 · No Comments

Abdul Rahman

سابق صدر پرویز مشّرف،مسلم لیگ (ق) اور عوامی مسلم لیگ کے چئیرمین شیخ رشید حکمران اتحاد میں جن خامیوں کا ذکر کرتے رہے تھے اب وہ کوتاہیاں اور خامیاں کھل کر سامنے آنے لگی ہیں۔اگرحکمران اتحاد آپسی اختلافات کے باوجود ’’فوج کی آنکھ کا تارا‘‘اور پاکستان کے پہلے مضبوط صدر کو گھر بھیجنے میں کامیاب ہو سکتا ہے تو گو نہ گوپاکستان کے حالات بھی بدلنے کے لئے متفقہ لائحہ عمل مرتّب کر سکتا ہے لیکن سابق صدر پرویز مشّرف کے مستعفی ہونے کے چند لمحوں بعد سے ججز کی بحالی ،58-2-Bکا خاتمہ اورسترویں ترمیم کے بارے میں بحث و مباحثہ کا آغاز ہو گیا تھا۔سابق صدر پرویز مشّرف کے مستعفی ہونے سے پاکستان کے سیاسی ماحول پرعرصہ آٹھ سال سے طاری جمود کو ٹوٹنے میں مدد ملی لیکن حکمران اتحاد میں ہونے والے وعدے ایفا نہ ہو سکے۔میں یہاں یہ کہنا مناسب سمجھوں گا کہ آج اگر کوئی اخبار نویس یا کالم نگار کوئی کالم یا فیچر تحریر کرتا ہے توگرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ملک کے سیاسی ماحول میں وہ تحریر اپنا اثر کھو دیتی ہے،جب وہ تحریری مواد منظرِعام پر آتا ہے تو سیاسی صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہوتی ہے۔اس لئے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے بدلتے ہوئے سیاسی ماحول اور مستقبل پر بات کی جائے۔

نبوّت سے پہلے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص نے تجارتی مال کے بارے لین دین کرنے کے لئے جگہ کا تعین کیا، اس نے دن کا تعین کر کے ایک پہاڑی کی نشاندہی کی اور آنے کا وعدہ کیا لیکن مطلوبہ وقت پر وہ نہ پہنچ سکا جب دو دن بعد اسکا گزر دوبارہ اس جگہ سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑا دیکھ کر حیران ہوا تب اس کو اپنا کیا ہوا قول اور وعدہ یاد آگیا، معذرت کی ۔کہنے کا مقصد یہ تھا کہ جب ہمارے آقا حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کوایفائے عہد کا اتنا پاس تھا کہ اس شخص سے کئے گئے وعدے کی پاسداری کا خیال اس شخص کو ہونے کی بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تھا۔اسی طرح کی مزید مثالیں اور قصّے ہیں اور اس طرح کے بے شمار قصّے اور کہانیاں بچوں کے نصاب میں شامل ہیں،لیکن شاید کہ یہ تمام قصّے ہم بھلا چکے ہیں یا پھر مذہب کو صرف اپنے ذاتی مفاد اورمقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔

ایفائے عہداور اتفاقِرائے کا جو درس اسلام نے دیا ہے ان سب سے عاری ہمارا سیاسی نظام جس نہج پر آچکا ہے ،قارئین آپ اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ آج ہماری سوچ اس مقام پر کھڑی ہے کہ ہم قول وفعل اور اقرار سے مکمل طور پر بدل جاتے ہیں اور ان کو سیاسی اور سماجی مصلحتوں کا نام دے کر اپنی جان چھڑا لیتے ہیں۔جو انداز ’’جمہوریت پسند‘‘ جماعتوں نے اپنایا ہے وہ ملکی سیاست کو یکسر تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی اپنا اعتماد کھو رہے ہیں۔عوام میں مایوسی اور بددلی کے بادل امڈ رہے ہیں۔یہی لوگ جنہوں نے سابق صدر پرویز مشّرف کے آنے پر کسی خوشحالی کی طرف پیشقدمی سمجھ کر مٹھائیاں تقسیم کیں تھیں پھر اسی طرحپرویز مشّرفکے جانے پر اسی ماضی کو دہرایا گیا،وہی بھنگڑے اور وہی مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ہر بار عوام اس مخمصے میں رہتی ہے کہ شاید اب کے آنے والا حکمران پچھلے کی نسبت ایسی اصلاحات نافذالعمل کرے گا جس سے کوئی دوررس اور دیرپا نتائج برآمد ہوں گے لیکن ہر بار کی طرح عوام کے حصّے میں حوصلہ شکنی اور بدعہدی آتی ہے اور حکمران صرف اور صرف بے وفائی سے وفا کرتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نوازشریف کا اپوزیشن بنچز پر بیٹھنا ایسا ہی ہے جیسے طوطا مینا سے روٹھ کر کسی نئی شاخ پر جا بیٹھا۔میں یہاں برملا اس بات کا اعتراف کروں گا کہ جس مفاہمت اور مشاورت کی سیاست کو سابق صدرپرویز مشّرف نے فروغ دیا اسی مشاورت کی بدولت ان تمام اتحادی جماعتوں کو اکھٹے سر جوڑ کر بیٹھنے کا موقع ملا اورسابق صدرپرویز مشّرف کوگھر بھیجنے کا کام پایہ تکمیل تک پہنچا ورنہ اس سے پہلے تویہی ہوتا آیا ہے کہ پاکستان کی ہر سیاسی جماعت اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر کام کرتی رہی ،لیکن ملکی حالات کے پیشِ نظر آپسی اختلافات کو بھلا کر مفاہمت ہی کی سیاست کو فروغ دیا جانا چاہئے۔بہرحال اتحادیوں میں جو پھوٹ پڑنی تھی وہ تو نظر آرہی تھی لیکن پاکستان کا سیاسی ماحول اور مستقبل انتہائی مخدوش اور تاریک نظر آرہا ہے۔ عوام میں ناامیدی کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے۔یہ بات اکثر ذہن پر ہتھوڑے برساتی ہے کہ اگر یہی حالات رہے تو عوام کس کو اپنا نمائندہ منتخب کریں گے؟کس سیاستدان کو اپنا رہبر اورامیدوں کا محور بنائیں گے؟کچھ طبقوںنے تو یہ کہنے کا آغاز کر دیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سر براہ ‘پرویز مشّرف کے ڈوپلیکیٹ کا رول ادا کر رہے ہیں۔ان عوامی ترجمانوں(سیاستدانوں) پر سے عوام کا اعتماد ختم ہو تا جارہا ہے۔جیسے ہماری معزّز اور قابلِاحترام شخصےّت مولانا فضل الرحمن نے مسلم لیگ (ن) کے اتحادی جماعتوں کو چھوڑنے سے ایک روز قبل فرمایا،’’میاں صاحب ججز کی بحالی پر زور دے رہے ہیںلیکن ان سب سے پہلے عوام کے مسائل حل کرنا ہونگے‘‘۔اسکے برعکس اگلے ہی روز مولانا صاحب کا بیان قابلِ دید‘ قابلِ رشک اور قابلِ فہم تھاکہ،’’زرداری صاحب کا ججز کو بحال نہ کرنے کا فیصلہ سمجھ سے بالا تر ہے اور ایسے فیصلے ہمیںاتّحاد چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں‘‘۔ان بیانا ت کا ایک دوسرے کے اینٹی(مخالف) ہونا عوام کو شدومد کی کیفیات میں مبتلا کر رہا ہے۔

میرے خیال سے حکمران اتحاد کی ٹوٹ پھوٹ سے مضبوط اور مستحکم جمہوریت کی عوامی خواہشات کو شدید جھٹکا لگا ہے۔ایک بار پھرملک میں محاذآرائی اور سیاسی چپقلش کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔محاذآرائی کی سیاست نے ملک کی معاشی حالت کو شدید بحران سے دوچار کر رکھا ہے ‘اس عدم تحفظ کی حالت نے ملک کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔خودکش حملہ آوروں سے ہماری انتہائی حسّاس جگہیںبھی محفوظ نہیں رہی ہیں،جس ملک کے سیاستدان محفوظ نہ ہوں تو اس ملک کی عوام کے مال و جان کے تحفظ کی ضمانت کون دے سکتا ہے!کوئی نہیں! ملک کے سیاسی اور سیکیورٹی حالات کے پیشِ نظرسرمایہ دار ‘سرمایہ لگانے سے ڈر رہا ہے۔جب موجودہ حکومت برسرِاقتدار آئی تھی تو اس وقت زرِمبادلہ کے ذخائر 15ارب ڈالر سے زائد تھے لیکن موجودہ صورتحال اورڈالر کی قیمت کے پیشِ نظراور دیگر اسباب کے گٹھ جوڑ سے زرِمبادلہ کے ذخائر 9ارب ڈالر سے کم ہو چکے ہیں۔پہلے تو تمام مسائل کا الزام سابق صدر پرویز مشّرف کے سر تھا اور حکومتی اتحاد بھی ہر مسئلے اور معاملے کا ’’ٹانکہ‘‘ سابق صدر پرویز مشّرفسے جوڑتے تھے،لیکن اب مشّرف کے مستعفی ہونے کے بعدایسا کرنا ممکن نہیںرہا ،اب حکمرانوں کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا ہو گا،عوام میڈیا کے اہم کردار کی بدولت باشعور اورہر لحظہ باخبررہتی ہے۔اب انہیں پرانے دور کی طرح ’’الّو‘‘بنانا آسان نہیں رہا۔اب ایک ٹھیلے والا بھی سوچتا ہے اور ہر سیاسی بیان پر تبصرہ کرتا ہے۔لمحہ بہ لمحہ کی رپورٹس،بریکنگ نیوز اور ٹاک شوز نے عام شہری کو بھی پہلے کی نسبت زیادہ باشعور اور معاملہ فہم بنا دیا ہے۔اب لوگ ملکی صورتحال پر غوروفکر کر کے تجزیہ پیش کرتے ہیں۔اب ان سیاسی بادشاہوں کی محض لفّاظی اور لچھے دار زبان استعمال کرنے سے کام نہیں بنے گا ،اب عوام کو کچھ کر دکھانے اور اچھا کر دکھانے کا وقت ہے اور اسی سے حکمران خود کو اس ماحول میں adjustرکھ سکیں گے۔ورنہ یہی سیاسی نظام مزید ابتری کا شکار ہوکر ملک کو مزید دگر گوںحالات پر پہنچا دے گا اور اب کی بار موجودہ حکمرانوں اور سیاسی بسّاط کے چالبازوں کو عوام کی طرف سے کوئی محفوظ راستہ نہیں ملے گا۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو