Urdu News – Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News – Online Urdu News Paper header image 2

قومی امانتدار ‘ کالم ‘ عباس ملک

August 30th, 2008 · No Comments

عوام کے ساتھ اس سے سنگین مذاق اور بے حسی کا عظیم ترین اور کیا مظاہرہ ہوگاکہ وفاقی وزیر صاحب واپڈا کی درگوں صورتحال پر قابو پانے کی بجائے صدارتی الیکشن میں زداری صاحب کیلئے ووٹ اکھٹے کرنے کی مہم سرکررہے ہیں۔عوام کس ذلت اور کرب سے گذر رہی ہے اس کا اندازہ لوڈشیڈنگ کے شیڈول سے اگر نہیں ہو سکتا تو مہنگائی کی رسوائی کے آئینہ میں کوئی دیکھ لے ۔زرداری صاحب اگر صدر منتخب ہوگئے تو ملک میں دودھ شہد کی نہریں ہرگز بہنا شروع نہیں ہونگی کیونکہ ان کا ماضی ١٠ پرسنٹ سے داغدار اور حال ١٠٠ پرسنٹ مستقبل ابھی زیر تعمیر ہے۔نظری شواہد سے یہی تو معلوم نہیں ہوتا کہ ایک عام جاگیردار گھرانہ آخر سرے محل اور لاکھوں ڈالز کا صرف ایک ملک میں کیسے حامل ہو سکتا ہے۔بی بی سے شادی سے پہلے وہ کیا تھے اور شادی کے بعد کیا ہوگئے ۔وقت کتنا ظالم ہے کہ کل تک مشرف کے کپڑے پھاڑنے والے اور ق لیگ کو قاتل لیگ قرار دینے والے آج ان کے اقدامات کو آئینی تحفظ دینا چاہتے ہیں۔آج صدارتی گدی کیلئے اسی ق لیگ کے اگے ووٹوں کی بھیک کیلئے دامن پھیلا کر سیاسی پراگندگی اور بے اصولی کا ثبوت تو فراہم کیا گیا لیکن بی بی شہید کے خون کو فقط ایک عہدے کیلئے بھلا دینے اور بلاول کو بھٹو کا لاحقہ عطا کرنا سیاسی شعبدہ بازی کا نہایت اعلی نمونہ کہلائے گا۔آج اقوام متحدہ سے تحقیق و تفتیش کا مطالبہ زرداری صاحب سے کون کر سکتا ہے؟صدارت کا حصول او رصدارتی انتخابات بلاشبہ ایک آئینی ذمہ داری اور اہم کا م ہے ۔ملک کا وزیر اعظم موجود ہے اور جمہوری تقاضوں کے مطابق عوام کے مسائل کو اب حل ہونا چاہیے ۔صدارتی الیکشن کی گرد میں عوام کے مسائل کو چھپاکر پیپلز پارٹی کی حکومت اپنے دامن کو آلودہ کر رہی ہے ۔حالانکہ مسلم لیگ ن نے اسے فری ہینڈ دیا ہوا تھا ۔آج زرداری براہ راست کہہ رہے کہ ان کے اقداما ت سے مسلم لیگ ن کو تکلیف پہنچی ہے تو اس کے لیے معذرت خواہ ہیں ۔صاف واضح ہے کہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہے لیکن وہ اس کا ازالہ صرف زبانی بیان بازی سے کرنا چاہتے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی نے عوامی توقعات کا خون رائیگاں جانے دیا ہے ۔پیپلز پارٹی جو غریب مزدور اور منت کش طبقوں میں مقبولیت رکھتی تھی اور یہی اس کے اصل طاقت کے مراکز تھے ان سے اپنی پالیسوں کے سبب ہاتھ دھو رہی ہے ۔آج یہی غریب محنت کش اور مزدور طبقہ بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ملازمتوں سے ہاتھ دھو رہا ہے ۔پاورز لومز کے علاوہ چھوٹی بڑی فیکڑیاں کارکنوںکی چھانٹی پر مجبور ہو چکی ہیں ۔غریب کا چولہا ٹھنڈا پڑرہاہے اور غریب فاقہ کشی پر مجبور ہے ۔روٹی کا حصول دشوار ہے جب کہیںسے مزدوری حاصل ہوگی تو پاؤ آٹا بھی گھر آئے گا۔غریبوں کے پاؤ آٹا کا سبب ہی جو حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے اسے عوامی حکومت اور عوامی جماعت ہونے کے دعوی زیب نہیں دیتے ۔یہ حقیقت ہے کہ توانائی کے زرائع ایک دن میں پیدا نہیں کیے جاسکتے ان کیلئے مستقل حکمت عملی اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔عوامی حکومت کے نمائیندوں اور ارباب اختیار سے ہم یہ پوچھنے میں تو ہم حق بجانب ہیں کہ آخر اس تمام عرصہ میں انہوں نے لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کیلئے انرجی سیور کی درآمد کے اور انڑنیشنل آور سے انحراف کرنے کے علاوہ عملی طور پر کیا اقدامات کیے ہیں۔اس کے بعد ہم یہ پوچھنا چاہیں گے کہ اگر انہو ںنے ایسا نہیں کیاتو اس کا سبب کیا ہے ؟اس قومی غفلت کا باعث بننے والے وفاقی وزیر سے لیکر واپڈا کے چیئرمین اور سربراہ مملکت گیلانی صاحب کس کو اس کا موردالزام ٹھہرایا جائے اور کس کورٹ میں ان کی نااہلی کا ریفرنس دائر کیا جائے ؟کراچی کے علاوہ بھی دیگ علاقے پاکستان کا ہی حصہ ہیںاوراپنے اپنے حصہ کی وفاداری نبھانے کیلئے فرائض کی ادائیگی کرتے آتے ہیں۔وادی سون سکیسر سپاہیوں ہی نہیں جنرلز کی بھی سرزمین ہے ۔یہی دھرتی احمد ندیم قاسمی مرحوم کا خمیر اٹھانے کافخر بھی رکھتی ہے ۔وطن عزیز کی سرحدوں کے دفاع کیلئے اس خطے نے ہردور میںجان و مال کے نذرانے پیش کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں برتی ۔کیا سبب ہے کہ اس کو ایک عضو معطل بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔وادی سون جو کہ ایک غیر ترقی یافتہ علاقوں کیلئے استعارہ بن چکاہے کہ باسی بھی اس صدارتی الیکشن کے موقع پر ارباب اختیار سے سوال کرتے ہیں کہ اگر چہ زرداری صاحب نے تو اپنے سبب جیل کاٹی لیکن وادی سون کے باسی تو ٦٠ سال سے پاکستان کے دفاع کے جرم کی سزا کاٹ رہے ہیں ۔زرداری کی منزل تو سامنے آگئی پاکستان کے باسیوں کی منزل کا نشاں بھی کوئی بتائے ۔نسل درنسل انقلاب لانے کے دعویدار جاگیروں سے اٹھ کر سرے محل دوبئی لندن و پیرس کے سرمایہ داروں میں شمار ہونے لگے لیکن پاکستان کے غریب عوام کو جو دو وقت کی روٹی دستیاب تھی وہ بھی ان کی دسترس سے باہر ہو گئی ۔کیایہی انقلاب لانا تھا کیا بھٹو اور بی بی شہید کا یہی خواب تھا ۔بالکل یہی تھا کیونکہ انہوں نے خواب کی تعبیر بنانے اور بتانے کی ذمہ داری جن کو سونپی وہ صرف اقتدار و اختیار کو ذاتی استعمال کیلئے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ان کے معائدے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے اور انکے میثاق جبرو استبداد کی طاقت کے حصول کیلئے ہیں۔ان کی زبانیں حق کے ذائقے سے ناآشنا ہیں ۔عوام اورانسان کا درد ان کے دلوں میں عنقا ہے۔انہیں اقتدار و اختیار چھن جانے کا خوف ہے انہیں خوف خدا سے کوئی واسطہ نہیں۔عوام جنہیں اپنا نمائیندہ بنانے سے انکار کرتے ہیں انہیں یہ مشیر اور بیت المال جیسے اداروں کے چیئرمین کے عہدوں پر بٹھاکر جمہوری اصولوں کامذاق او ر عوام کے منہ پر تھوکتے ہیں۔عوام بھوک سے نڈھال ہے ،عوام کو سکھ کا ایک سانس بھی میسر نہیںاور ہمارے دردآشنا انکے دکھوں کا علاج صدارتی الیکشن میں تلاش کر رہے ہیں۔جیسے زرداری صدر منتخب ہونگے ملک میں بجلی کی پیداوار میں کتنے پرسنٹ کا اضافہ ہو جائے گا۔یہ ابھی پرسنٹیج طے کرنا باقی ہے ۔سچ اور حق کے مقابل کذب کے پجاری ایک دوسرے کو سو میل سے آملتے ہیں۔مولانا مفاد پرست نے گورنر شپ اور دو وزارتیں اپنے اسلام اور ایمان کی قیمت تجویز کی ہے ۔اسفند یار ولی کے اصولوںکی قیمت سرحد اسمبلی کی تحلیل سے وابستہ ہوگی ۔ایم کیو ایم کو ہمیشہ چھپر پھاڑ کر ہی ملا ہے اسکے بجھے ہوئے چنے بھی پیداوار دینا شروع کر دیتے ہیں۔ہر دور میں بلیک میلنگ کے زریعے اقتدار و اختیار ان کے پاؤں کی جوتی بن جاتاہے ۔جس کے پاؤں میں چائیں ڈالیں اور جس کے سر پر چاہیں برسائیں۔اگر اسی طرح عوام کے ساتھ دھوکا اور فریب ہی کرنا ہے تو مہربانی فرما دیں کہ کم از کم کوئی ایک ایسا نہ کرے باری باری نیاچہرہ دیکھ کر امید کی ڈور بندھ جاتی ہے ۔جس ملک اور قوم کے امانت دار ہی خیانت پر اتر آئیں وہ کیا کرے ۔ملک میں جاری لاقانونیت لادینیت مہنگائی بدامنی بے روزگاری نے اپنے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔عوام کے مصائب سے قطع نظر حکومت کی ترجیحات میں عوام کے مسائل اولین ترجیح حاصل نہیں کر پائے۔کیسے قرار پائیں کہ جو اس دیس میں اقتدار کے دن گذار کر جلا وطنی کے دن لندن و دوبئی میںگذاریں انہیں کیا معلوم کہ اس دیس کے باسیوں کا مسلہ کیا ہے ۔ہمارے دیس کا اصل مسلہ قومی امانت دار ہیں جو امانت میں خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ہم نے دودھ کی رکھوالی کیلئے بلے رکھ چھوڑے ہیںجو دودھ پی کر برتن بھی توڑنے کی بات کرتے ہیں۔عوام کی امانت اقتدار ان کے زیر دست لانے کیلئے آئین میں اس بات کی گنجائش پیدا کی جائے کہ ملک کا صدر ،وزیر اعظم اور اسکے وزراء کے علاوہ قومی ادارو ںکے سربراہان قومی مفادات اور جمہوری تقاضوں کی خلاف ورزی ،غلط پالیسی پر قابل گرفت و مواخذہ قرار پائیں۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو