Urdu News – Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News – Online Urdu News Paper header image 2

آدھاتیتر آدھا بٹیر ‘ کالم ‘ عباس ملک

August 27th, 2008 · 1 Comment

جمہوریت کے پاسبان ہونے کے دعوی دار عجب گورکھ دھندے میں پھنس گئے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ سچ کو چھپانے کی ضرورت اور کوشش ہی کیوںکی جاتی ہے ۔زرداری صاحب میاں نواز شریف کی احسان مندی کو تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے یا پھر یہ نفسیاتی بیماریوں کا شوشہ بے وقت بھی ایک سچ ہے ۔یہ ایک سیدھی سادھی حقیقت ہے کہ میاں نواز شریف نے آصف زرداری کا ہاتھ تھام کر اسے منزل سے دوچار کردیا ہے ۔میں اسے میاں نوازشریف کی سادہ لوحی سے بھی تعبیر کروں گا اور انکی صاف نیتی بھی کہوں گا۔زرداری صاحب کی فراست کو تسلیم کرنے میں کچھ تامل ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ زرداری نے مسلم لیگ ن کو ،،مونا ککڑ ،،بنا دیا ہے ۔مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ایسے میں میاں شہباز شریف ،چوہدری نثار ،اسحق ڈار کیا غنودگی میںتھے یا پھر ٹرانس میں تھے۔ان میں سے کوئی بھی بصیرت اور بصارت دونوں میں سے ایک کا بھی استعمال نہیں کر سکا۔زرداری صاحب نے فراست اور سیاست میں دو دفعہ کے وزیر اعظم پنجاب کے وزیراعلی اوروزیر خزانہ رہنے والے میاںنوازشریف اور ان کے عالی دماغ شہبازوں کو گھاس چرنے پر مجبور کر دیا ۔الیکشن میں کامیابی کا تناسب بھی سامنے کی بات ہے اور سیٹوں کا فرق بھی سامنے ہے ۔قومی حکومت بنانے کیلئے بھائی چارے کی فضاء پیدا کر کے مقاصد حاصل کر لیے گئے ۔آپ کو شاہ مات کرنے کیلئے گیلانی صاحب نے ججز کی رہائی کا فل بدیہہ آرڈر بھی جاری کر دیا ۔آدھاتیتر اور آدھا بٹیر دکھا کر سب کو پیچھے لگاکر آج زرداری صاحب ڈنکے کی چوٹ پر ایوان صد ر کے زینوں پر فاتح بننے کھڑے ہیں ۔آج افتخار چوہدری کو ججز کا امام تسلیم کرنے والے اور انہیں تسبیح کے دانوں کا امام قرار دینے والے کیا یہ بتانا پسند کریں گے کہ بغیر امام کے پچھلے چھ ماہ سے عدلیہ کی نمازیں کیا ہوئیں ۔یہ بات چیف کی اگر انہیں بری لگی کہ وہ جلسے جلوسوں میں شامل ہو کر سیاسی ہو چکے ہیں تو انہیں یہ بھی دیکھ لینا چاہیے کہ آمر وقت کے سامنے نہ کرنے کا حوصلہ بھہ انہیں ہی ہو ا تھا ۔انہی کی بچھائی ہوئی بساط پر چل کر آج گیلانی صاحب وزیر اعظم اور زرداری صاحب صدر بننے کیلئے تیار بیٹھے ہیں ۔نہ وہ انکار کرتے اور نہ ہی یہ منزلیں طے ہوتیں ۔یہ وکلاء کی تحریک ہی کا دم قدم ہے اور اس میں انکی شمولیت بحیثیت امام ضروری تھی ۔آج اصولوں کی بات کرنے والے یہ وضاحت کرنا پسند کریں گے کہ ایک ہی آرڈر سے معزول ہونے واے ججز کو کن اصولوں کے تحت وہ علیحدہ علیحدہ بحال کیے جارہے ہیں۔سندھ کے ججز جو کل تک امام کے پیچھے کھڑے نماز ادا کر رہے تھے ان سے پہلے سلام کہہ کر کون سے اصول کی پاسداری کررہے ہیں۔اصولوں کی پاسداری یہ ہے کہ ابھی خبر آئی کہ زرداری صاحب کے خلیل زلمے زادہ کے ساتھ اندرون خانہ ملاقاتیں بڑھتی جارہی ہیں تو امریکی وزارت خارجہ نے ان سے جواب طلبی کر لی ۔خلیل زلمے زاد سے زرداری صاحب کی قرابت کی کیا توجیہہ پیش کی جاتی ہے یہ بعد کی بات ہے ۔زلمے زادہ افغان صدارت کیلئے اگلانام تھا جس کے پاکستان کے متوقع صدر کے ساتھ تعلقات کی نوعیت امریکہ کو پسند نہیں آئی۔انہوں نے جواب طلب کر لیا ۔ہمارے زرداری صاحب سے اب کون پوچھے کہ محترم آپ کیا کر رہے تھے ۔ذیلی طور پر سوئس منی لانڈرنگ کیس سے بریت کے بعد اب انہیں بین الاقوامی سرٹیفیکٹ حاصل ہوگیا ہے لیکن یہ رقم کس کھاتے کی تھی اور کیسے حاصل ہوئی اور کیسے گئی اور اب کہاں جائے گی اس کے اصول و ضوابط کے متعلق کس سے بات کی جائے اور اس کا جواب کون دے گا۔سیاست میںاصولوں کی بات انہیں زیب دیتی ہے جن کے اصول اپنے اور پرائے کیلئے یکساں ہوں ۔اسفند یار ولی کے جدنے تو اپنے اصولوں کی بنا پر پاکستان کی سرزمین میں دفن ہونا پسند نہیں کیااور وہ ہیں کہ اصولوں پر مفاہمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ججز ایشو پر ان کا مؤقف ابھی نا مکمل ہے لیکن وہ بے اصولی کرتے ہوئے اپنے کولیشن پارٹنر میاں نواز شریف سے علیحدگی کو ترجیح دیتے ہیں۔جسٹس سعید الزمان صدیقی ایک غیر سیاسی پس منظر کے ساتھ پی سی او کی مخالفت کرنے والے اولین شخص کی حیثیت سے ممتاز حیثیت کے حامل ہیں۔ان کی فہم و فراست شک و شبہہ سے بالا قرار دی جاسکتی ہے کہ انہوں نے اصولوں پر آمر وقت کو ترجیح نہیں دی ۔مولانا مفاد پرست نے نیا ڈول ڈال کر اپنی شخصی اغراض پرستی کو مزید تقویت فراہم کر دی ہے ۔مولانا کا اپنے بھائی کو صدارت کیلئے امیداوار ٹھہرانا زرداری کو بلیک میل کرکے مقاصد کے حصول تک ہی محدود ہے ۔زرداری صاحب پاکستان کے بلا مقابلہ صدر منتخب ہونے کی خواہش رکھتے ہونگے اور اس کے لیے انہوں نے ہوم ورک کا آغاز بہت پہلے سے شروع کر دیا ہوگا۔میاں نواز شریف تو ان سے کچھ حاصل نہیںکر سکے اپنا سب کچھ ہی گنوا بیٹھے ۔۶ ستمبر یوم دفاع پاکستان ہے اسے یوم زرداری کا درجہ حاصل ہونے سے روکنے والا کوئی نہیں۔زرداری صاحب کی سیاست جو یہاں پر واضح ہو کر سامنے آتی نظر آتی ہے اب یہ قدرت کا کھیل ہے یا پھر ان کی کرشمہ سازی کا کمال ہے کہ وہ اپنے تمام مسائل پر گرفت کر کے ان سے چھٹکارا پا کر صدارتی کرسی کے امیدوار بن چکے ہیں۔صداری کرسی پر برجمان ہونے کے تمام مسائل پر گرفت کر کے ان سے چھٹکارا مل جائے گا۔این آر او کا کری خطرہ نہیں ہوگااور وہ شاید پہلا آرڈر بھی چیف جسٹس کی بحالی کا ہی دیں گے۔سانپ بھی مر جائے گالاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی ۔بلے بلے واہ واہ اور تاریخ میں نام بھی رقم ہوگا۔یاد رہے کہ انسان اپنی تدبیرکرتاہے اور تقدیر کا لکھا شاید کچھ اور ہوتاہے ۔بلاشبہ انتہائی ذہانت سے کھیلی جانے والی یہ گیم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ زرداری صاحب بلامقابلہ منتخب صدر ہونے کا اعزاز حاصل کر پاتے ہیں یا پھر ان کے مد مقابل انہیں بچھاڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ظاہر تو ایسا ناممکن ہے لیکن اے این پی ،ق لیگ، ایم کیو ایم اورن اگر اصولوں پرسمجھوتا کر لیں کہ اصولی طور پر صدر پاکستان ایک غیر متنازعہ اور غیر جانبدار شخصیت کو ہونا چاہیے تو پھر یہ ناممکن بات ممکن ہوتی نظر آتی ہے۔شخصی اصولوں کے تحت دیکھا جائے تو اپوزیشن جماعتیں یک جماعتی نظام کے اگے مزاحمت کرتی ہوئی نظر آنی چاہیں۔ملک کو ایک جماعت کے حوالے کرنے سے جمہوریت آمریت میں ڈھل سکتی ہے۔جمہوریت کے اصولوں کے تحت حکومت پرچیک رکھنے کیلئے صدر پاکستان کاغیر جانبدار ہونا ضروری ہے ۔اب دیکھیں کہ اصولوں کی بات کرنے والے کون سی نئی کوڑی لاتے ہیں۔کو چلاتھا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔ق لیگ اور ن دونوں کو کھینچا تانی کی بجائے اپنی اصل چال پر واپس آنا ہوگا۔ایک ایک دو گیارہ ہو کر ہی جمہوریت کی بہترخدمت ہو سکتی ہے ۔آدھا تیتر آدھا بٹیر کی بجائے حکومت اور اپوزیشن میں امتیاز ہی جمہوریت کی اصل روح ہے ۔مسلم لیگ اپوزیشن کی شکل میں ہی اب اپنا کردار ادا کرکے اپنا مستقبل بہتر بناسکتی ہے۔ورنہ اس کے پاس اب سیاسی ایشو کچھ بھی نہیں۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

1 response so far ↓

  • 1 asad abbas shah // Aug 30, 2008 at 1:24 am

    i recomend ur views mr malik.

Leave a Comment

Englishاردو