Urdu News – Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News – Online Urdu News Paper header image 2

اصل مسلہ کیا ہے ‘ کالم ‘ عباس ملک

August 26th, 2008 · No Comments

عدلیہ ملک اور معاشرے کا اصل مسلہ ہے۔صدارت کا حصول زداری کا اصل مسلہ ہے ۔ان دونوں مسائل میں سے اہم ترین یا وقت کی ضرورت کیا ہے ۔زرداری کا صدارت پر فائز ہونے کے بعد کیا پاکستان کے داخلی مسائل حل پذیری کی طرف چل دیں گے ۔ایسا ہونا اس لیے نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے کہ زرداری صاحب کی فراست نے تمام اتحادیوں اور مخالفین کو اپنی ذات کی حفاظت پر معمور رکھا ہے ۔این آر او زرداری صاحب کے گلے کاچھچوندر ہے جو نہ نگلا جاسکتا ہے اور نہ اگلاجاسکتاہے ۔این آر او کا کمبل اب کسی قربانی کا تقاضہ کر رہا ہے۔مشرف نے اپنے بچاؤ کیلئے زرداری صاحب کو این اراو جاری کرایا کہ وہ انتہائی فرشتہ سیرت انسان ہیں ۔گیارہ سال اور اربوں روپے صرف کر کے بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑا جاسکا۔سامنے کی بات ہے کہ سرے محل اور اسی طرح کے دیگر الزامات جو زرداری صاحب پر عائد کیے جاتے ہیںاور انہیں مسڑٹین پرسنٹ جو خطاب عطا کیا گیاتھااس کے پیچھے کوئی نہ کوئی تو سچ ہو گا۔فلسفہ کہتاہے ہر جھوٹ کے پیچھے بھی ایک سچ ہوتا ہے ۔کئی دفعہ بھیانک سچائیاں چھپانے کیلئے جھوٹ بولاجاتاہے ۔راوپنڈی کینٹ بورڈ کا ایک بلڈنگ انسپکڑ کرپشن کے الزامات میں برطرف کیا جاتاہے ۔آج وہی اسی محکمے میں انفورسمنٹ کی سیٹ پر برجمان ہے ۔اللہ تعائی مرحوم کو مغفور فرمائے راجہ ثقلین کو اسکی دلیری اور کارکردگی پر ستائش کی جاتی ہے ۔مرحوم کے متعلق کنفرم یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کئی افرادکو دوران تفتیش نشدد سے مار ڈالا ۔وہ تمغہ حسن کارکردگی کے مستحق ٹھہرے۔نادارا میں کئی افراد کرپشن کے حامل ہیں ۔پاکستا ن کو دنیا میںکرپشن کی درجہ بندی میںممتاز مقام حاصل ہے ۔سامنے کی بات ہے کہ ٹریفک پولیس رشوت لیتی ہے ہم انہیں ایسا کرتا ہوا دیکھتے ہیں ۔ہمارے عدالتی نظام میںکرپشن کا زہر حلول کر چکا ہے ۔کچہری میں ٹاؤٹ مافیا کی زبان سے ایسی ایسی روح فرسا باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ انسان سوچتاہے کہ ہم کیا واقعی انسان اورمسلمان ہیں ۔ہمارے ایک فوجی صوبیدار دوست نے مجھے میرے بھتیجے کے قتل پر تعزیت کے دوران سرگوشی میں پوچھا کہ کیس کس کے پاس ہے ۔میں نے بتایا فلاں کے پاس ہے ،کوئی مسلہ نہیںشہرت تو انکی نہایت سخت گیری کی ہے لیکن کرا لیں گے ۔انہوں نے بتایا کہ کس طر ح انہوں نے اپنے کیس کا فیصلہ ایک گھنٹے کے اندر اپنے حق میں کرایا ۔عدالتی لکھا ہو ا فیصلہ ایک فون کا ل پر ایک گھنٹے کے اندر بدل گیا۔ہمارے سیاسی لوگ جس طریقے سے عدلیہ کو کھلونا بنائے ہوئے ہیں وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔میرے عزیزی ملک ابرار احمد اپنے چھوٹے بھائی ملک افتخار احمد ایم پی اے کو صرف تھانے کچہری کیلئے مخصوص رکھتے ہیں۔میں ایم ایس ایف راولپنڈی ڈویژن کا جوائنٹ سیکڑی رہاہوں ہم طلبا تنظیمں سیاسی حریفوں کیلئے کیا ہتھکنڈے استعمال کرتے تھے وہ بھی ماضی کاایک داغ ہیں ۔طلبا تنظیموں میں غیر طلبعلم افراد اور فارغ التحصیل طلبا کے اثر رسوخ کی وجہ سے یہ تنظیمیں کم اور بھتہ خور اور دادا گیرمافیا کیلئے زینے بن چکی ہیں ۔آج بھی سیاسی جماعتوں کے مقامی سطح کے کھڑپینچ ہر جائز و ناجائززرائع استعمال کر کے آئین قانون اخلاقیات انسانیت مذہب سب کے منہ پر تھپڑ مارتے ہوئے ملیں گے ۔شادی بیاہ کی تقریبات میں ون ڈش کا قانون کس نے توڑا ؟شادی بیاہ کی تقریبات میں فائرنگ کون کرتا ہے ؟ٹریفک قوانین کی وائلیشن کون کرتا ہے؟سب کھڑپینچ مافیا کے دم قدم کی بہاریں ہیں ۔میرے ایک بڑے اچھے دوست جو کہ مقامی سطح پر خاصے متحرک رہتے ہیںانکے ایک دوست مشہور زمانہ شراب فروش تھے ۔انکا ایک کنٹینر پکڑا گیا انہوں چھاپہ مارنے والوں پر فائرنگ کر دی اس سے پولیس کے سپاہی زخمی ہوئے ۔ان نے مقامی پولیس چوکی کے انچارج سے مل کر اسکوگرفتار بھی کرایا اورچھڑا بھی لیا ۔قتل تک کے مقدمات میں یہ اپنی کرامات دکھا چکے ہیں ۔پورے علاقے میں افغان مہاجرین کی آبادکاری میں انکا بنیادی کردار رہا ۔ان کیلئے شناختی کارڈ کا حصول ووٹر لسٹوں میں انکے ناموں کا اندارج انکو زمینوں کی خرید و فروخت میں امداد بھی اس معزز شخص کی سماجی خدمات کا طرہ امتیاز ہے ۔ایک دوست جو ایم ایس ایف کے دور میں نمائشو ں سے بھتہ لیکر گذارا کرتے تھے آج این جی او اور ایک اہم علاقے کے نائب صدارت جیسے عہدوں کے مزے لوٹ رہے ہیں۔یہیں پر انتظامیہ اور عدلیہ کے کردار اورعوام کے ساتھ انکے حسن سلوک کی داستان ختم نہیں ہوتی تھوڑی واضح ہوتی ہے۔جب اتنی سی حیثیت کے حاملین قانوں اور انتظامیہ کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل سکتے ہیں تو پھر زرداری صاحب آپ تو بہت اوپر کی چیز ہیں ۔آپ کے خلاف ثبوت کہاں سے لائے جائیں۔جب ایک عام سیاسی کھڑپینچ کو قانون لگام نہیں ڈال سکتا تو ایک پارٹی کے چیئرمین کو وہ کیسے ہاتھ ڈال سکتا ہے ۔اہنی ہاتھ ان اختیارات کی حدود میں داخلے کا سوچ کر ہی موم ہو جاتے ہیں ۔قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انکے اکابرین صرف چند بوتل شراب اور چرس اور معمولی جھگڑو ںکے کیسوں کو حل کر کے پریس کانفرنس کر رہے ہوتے ہیں۔سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ آئی جی اور ایس پی لیول کے آفیسر کسی اجرتی قاتل یا مفرور کی گرفتاری پر پریس کانفرنس کرتے تو نظر آتے ہیں آج تک انہوں نے کسی بڑے مجرم کو ہاتھ ڈال کر پریس کانفرنس نہیں کی ۔اتنا حوصلہ کون دے کہ کل بھگتنا بھی تو خود ہی ہے ۔آج کی اپوزیشن کل کے صاحب اقتدار پر مشتمل ہوتی ہے۔انتظامیہ اور عدلیہ کے افسران کو نوکری بھی تو کرنی ہے اپنے بچوں کو پرائی آگ میں دھکیلنے سے کیا فائدہ ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے انتظامی افسران اور عدلیہ کی سوچ یہی کہتی ہے۔وہ عوام کے مسائل کو اپنا نہیں سمجھتے ۔اگر اپنا جانتے تو جتنا اپنے بال بچوں کیلئے سوچتے ہیں اتنا ہی عام آدمی کی بھی قدر کرتے۔اپنائیت کا احساس تو اس وقت ہی ہو جاتاہے جب آپ سائل بن کر ان کے در پر جاتے ہیں ۔یہ افسر خواہ کینٹ بورڈ کا ہو سی ڈی اے کا ہو منسڑی ہو یا تھانہ کچہری سے متعلقہ ہو ۔زرداری صاحب ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو ۔بی بی کو بھی شاید اسی طرح کے وعدو ںکی آس دلائی ہو گی ۔ان افسران کو بھی وہ وعدہ یاد نہیں اور نہ ہی وہ وعدہ وفا کرنا چاہتے ہیں جسے حلف کہا جاتا ہے ۔محترم آپکی اطلاع کیلئے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان جھوٹا،دغاباز اور وعدہ خلاف نہیں ہوسکتا۔اگر اس میں یہ صفات پائی جائیں تو وہ منافق ہوتاہے۔صدارت ہو سکتا ہے آج آئے تو کل جائے ۔ایمان ہاتھ سے گیا واپس نہیں آتا۔سامنے کی بات ہے کہ مشرف کہیں نہیں جارہا تھاجیسے بھی گیاوہ آپ کو معلوم ہے ۔تو پھر اس پر بھروسہ کیوں؟یہ کل سب کچھ آپ کے خلاف بھی ہو سکتا ہے۔نواز شریف کو جس طرح آپ نے بنایا امید ہے کہ اب وہ ساری زندگی شاید ہی کسی پر بھروسہ کریں ۔میاں نواز شریف کی صاف دلی اور نیک نیتی تو سامنے کی بات ہے آپ کا مکروفریب اور دغابھی پوشیدہ نہیں رہا ۔واہ ری قسمت پاکستان کو کیسے کیسے راہنما نصیب ہوتے ہیں۔اب یہ نظر نہیں آتا کہ اس ملک کو پہلے عدلیہ اور انتظامیہ کی ضرورت ہے۔پھر اس کو کسی نیک نیت صدر کی ضرورت ہے۔ اے اللہ ہم تیری رضا پر راضی اور تجھ سے بھلائی کا سوال کرتے ہیں۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو