
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ سے منصف اور مجرم ایک دوسرے سے دست و گریبان رہے ہیں، موجودہ دور میں اِس کی سب سے بڑی مثال موجودہ حکمران طبقے اور عدلیہ کے درمیان جاری نورا کشتی ہے۔پچھلے دس سال مشرف کہیں نہ کہیں عدلیہ سے آنکھ مچولی کھیلتا رہا اور آخر اُس آنکھ مچولی نے اُسکو اپنے انجام تک پہنچا دیا۔ اُس کے جانے کے بعد اَب زرداری صاحب نے ایک منصف سے آنکھ مچولی شروع کر دی ہے اور یقینا اسکا انجام مشرف سے بھی بدتر ہو گا، کیونکہ مجرم جتنا بھی اثرو رسوخ والا کیوں نہ ہو ایک ایماندار منصف سے کبھی نہیں جیت سکتا۔ اور ایسا منصف جو وقت کے فرعون کے سامنے نہ جھکا ہو ، وہ کسی’’ ایرے غیرے‘‘ کے سامنے کیا جھکے گا۔جو غلطیاں ماضی قریب میں مشرف لیگ نے کیں آج وہی غلطیاں زرداری لیگ دہرا رہی ہے، اور جو انجام مشرف لیگ کا18فروری کو ہوا ، اُس انجام کی ایک جھلک زرداری لیگ نے ضمنی انتخابات میں دیکھ لی ہے۔
کچھ حد تک پی پی اور ن کے اتحاد نے عوام کا اعتماد بحال کیا مگراَب جو صورتحال زرداری صاحب کے غیر متوقع اقدامات کیوجہ سے پیدا ہو چکی ہے اُس نے عوام کااعتماد ہمیشہ کیلئے حکمران طبقے سے اُٹھا دیا ہے۔ اعلانِ مری کے معائدے کے بعد عوام یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید اَب ہمارے حکمرآن کچھ سدھر گئے ہیں مگر بد قسمتی سے یہ لوگ عزت اور ذلت میں فرق کرنا بھی نہیں سیکھ پائے۔زرداری صاحب نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر معائدے کیے اور آج یہ کہہ کر مکر گئے کہ سیاسی معائدے قرآن و حدیث نہیںبن جاتے۔زرداری صاحب پی پی تو شہیدوں (بقول آپکے) کی جماعت ہے اور وہ بھی اصلی جمہوریت کیلئے جان دینے والوں کی، آپ تو کہتے تھے بی بی کا خون رنگ لائے گا ، وہ رنگ کہاں ہے، مجھے آج معلوم ہو ا ہے کہ اِنسانی خون بھی دو رنگوں میں ہوتا ہے، لال اور سفید، لال خون تو ہم نے بدر سے لال مسجد تک بہتے دیکھا مگر سفید خون کبھی نہیں دیکھا تھا، محترمہ کا خون جو رنگ لایا ہے اُس سے معلوم ہوا کہ پاکستانی سیاستدانوں کا خون لال نہیں بلکہ سفید ہوتا ہے۔ وہ بی بی جو دس سال 58-2Bاور سترہویں ترمیم کے خاتمے کیلئے جنگ لڑتی رہی اور آج آپ اُسی 58-2Bاور سترہویں ترمیم کے تحفظ میں لگے ہیں کیا بی بی جی کے خون سے یہی رنگ نکلنا تھا۔
آج پاکستان 1971کے حالات سے دوچار ہے، 1971 میں بھٹو کے غلط اقدامات کیوجہ سے پاکستان دو ٹکڑے ہوا تھا اور آج ایکبار پھر پیپلز پارٹی کی قیادت کے غلط فیصلوں کیوجہ سے ملک ٹوٹنے کا خطر ہ ہے۔ اگر آج سوات، وانا اور بلوچستان میں آپریشن بند نہ کیے گئے ، امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ سے علیحدگی کا اعلان نہ کیا گیا تو یاد رکھنا اِس ملک کو ٹوٹنے سے کوئی نہیں روک سکتا ، اور 1971کیطرح ملک توڑنے کا کریڈیٹ اَب کی با ر بھی پیپلز پارٹی کو ہی جائے گا۔
ساری قوم جانتی ہے کہ پی پی عدلیہ کی بحالی میں مخلص نہیں اور یہ ایک حقیقت ہے اگر بے نظیر زندہ ہوتی تو شاید یہ توقع کی جاسکتی تھی کی عدلیہ بحال ہو جاتی مگر زرداری صاحب جنہوں نے NROکی گنگا میں اشنان کیا ہے وہ بھلا پاگل ہیں جو اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماریں گے ، صدارت کے اُمید وار بننے تک نجانے اُنکو کتنے پاپڑ بیلنے پڑے، اور آج اگر وہ عدلیہ کو بحال کر دیں تو کل افتخار چوہدری اُنہیں کرپشن کے کیسوں میں جیل بھیج دیںگے تو بتائیں زرا کہ ذوالفقار بھٹو، شاہنواز بھٹو، میر مرتضیٰ اور بے نظیر کی قربانی دینے کا فائدہ زرداری صاحب کو کیا ہوا؟جوزرداری 58-2Bاور سترہویں ترمیم کو ختم کرنے کو تیار نہیں وہ پاگل ہے جو جج بحال کر دے۔ پاکستان کی عوام اور ن لیگ کو اَب اس بات کو سمجھ جانا چاہیے کہ اِس ملک میں حکمرانوں کو ذاتی مفاد ملک اور قوم سے زیادہ عزیز ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے ججز کی بحالی کے معاملے پر جو بیان دیا ہے اُس سے مولانا کے تقویٰ کا اچھی طرح اندازہ کیا جا سکتا ہے۔یہ تو عوام اچھی طرح جان چکی ہے کہ مولانا کے قول و فعل میں کبھی تضاد نہیں رہا ۔ جس دن مشرف نے چیف جسٹس کو معطل کیا اور دوسرے دن جب چیف جسٹس سپریم کورٹ آئے تو سب سے پہلے گیٹ پر جس برگزیدہ ہستی ہے اُنہیں ویلکم کیا اور اُنکا ہاتھ چوما اور ہر ممکن مدد کی پیشکش کی وہ فضل الرحمن صاحب تھے۔سابقہ دور میں مولانا نے اسلام کے نام پرووٹ لیے اور مولانا صاحب کی مدد سے اسلام کو سب سے زیادہ نقصان سابقہ دورِ حکومت میںپہنچایا گیا، جب جامعہ سیدہ حفصہ کا معاملہ سامنے آیا تو مولانا صاحب نے سب سے پہلے جامعہ میں جا کر اعتکاف فرمایا اور وقت کے فرعون کے خلاف جہاد میں اُنکو ہر ممکن مددکی پیش کش کی، جب وقت آیا تو خود جاکر لندن بیٹھ گیا اور وقت کا فرعون قرآن اور اہلِ قرآن پر آگ کی بارش کرتا رہااور ہزاروں معصوم بچیوں کو زندہ جلا دیا گیا، مولانا صاحب ایک فصلی بٹیرے ہیں جہاں ہریالی دیکھتے ہیں ڈیرہ ڈال لیتے ہیں چاہے وہ دشمن کا کھیت ہو یا دوست کا، مولانا صاحب کیلئے ایک مشورہ ہے کہ وہ اپنی جماعت کا نام’’ جے۔یو۔آئی‘‘ سے بدل کر’’ موسم لیگ ‘‘رکھ لیں تو بہتر ہوگا۔
میں عوام اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ہاتھ باندھ کر گزارش کرتا ہوں کہ آپ کوفضل الرحمن کے بیان پر پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ، کیونکہ حق کا پتا تب چلتا ہے جب باطل سامنے ہو ، اگر مولانا کا ضمیر باطل سے گٹھ جوڑ کر چکا ہے تو کوئی بات نہیں فتح تو حق کی ہی ہوگی ۔
مشرف نے 3نومبر سے جو گڑھا کھودنا شروع کیا تھا آخر کار اپنے چیلوں سمیت اُسی گڑھے میں دفن ہوگئے اور جو گڑھا زرداری اور اُسکے حواری گھودنے جا رہے ہیں انشاء اللہ وہ دن دُور نہیں جب یہ سب اُس گڑھے میں دفن ہو جائیں گے۔
گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو شہرکا رخ کر تا ہے اور جب حکمرانوں کی موت آتی ہے تو وہ اپنے ملک و قوم سے دشمنی مول لے لیتے ہیں۔ اپنی قوم سے دشمنی کرنے والوں کے انجام بہت بھیانک ہوتے ہیں۔ اِسکی زندہ مثال مشرف کا انجام ہے۔ سولہ کروڑ عوام پر دس سال تک ظلم و ستم ڈھانے والا ظالم آج عوام کے رحم کرم پر ہے، ہزاروں معصوم پاکستانیوں کو موت کی نیند سلانے والے کو آج اپنی موت مانگنے سے بھی نہیں مل رہی۔ حکمرانوں کیلئے مشرف باعث عبرت ہیں، اِس سے سبق سیکھنا ہوگا ورنہ……ً

0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment