بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی کہ ایک چور چوری کے ارادے سے رات میں ایک گھر میں داخل ہوا ۔لیکن اس کو بہت زور کی بھوک لگی تھی اس نے دیکھا کہ سارے گھر والے سو رہے ہیں تو باورچی خانے میں گھس گیا ۔دیکھا کہ گرم گرم کھیردیگچی میں رکھی ہے ۔پہلے اس نے خوب جم کر کھیر کھائی, گھرکے سامان پر ہاتھ صاف کیا اور پھر کھیر کے برتن میں استنجا کرکے چلتا بنا۔تسلیمہ نسرین کی ہندوستان سے روانگی کے وقت کہے گئے الفاظ پڑھ کر مجھے یہی کہانی یاد آرہی ہے ۔تسلیمہ نسرین تو یہاں رات کے اندھیرے میں نہیں بلکہ دن کے اجالے میں آئی اور اس نے چوری نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی اقدار پر ڈاکہ ڈال کر ہندوستانی مسلمانوں سے سینہ زوری بھی کی ہے۔ظاہر اس کام کے لئے دن رات سے زیادہ موزوں ہے۔
تقریبا تین سال سے ہندوستان میں مقیم تسلیمہ نسرین نے جاتے جاتے یہاں کے لوگوں کو جو چوٹ پہنچائی ہے وہ نہ صرف اس کی حمایت کرنے والوں کا منھ بند کرنے لئے کافی ہے بلکہ اس کی فطرت اور ذہنیت کی آئینہ دار بھی ،جس کی شدت لمبے عرصے تک محسوس کی جاتی رہے گی ۔اس نے اپنی روانگی سے قبل کہا کہ ’’میں نے اپنے دل میں ہندوستان کو بسایا تھا جس کے بدلے میں ہندوستان نے مجھے دل کے مرض کا تحفہ دیا ۔اپنے ملک سے جلا وطن ہونے کے بعد میری جن آنکھوں میں ہندوستان کے خواب تھے ،انھیں آنکھوں کو ہندوستان نے تاریکی کا تحفہ دیاہے ۔میری بصارت کمزور ہوتی جارہی ہے ۔ہندوستان نے میری آنکھوں کو بھی سزادی ہے ۔جو سزا دنیا کے شدت پسندوں نے مجھے نہیں دی وہ ہندوستان نے دی ہے۔میں اپنے ملک بنگلہ دیش سے جلاوطن ہونے کے بعد دیش دیش کہ کر بہت روئی تھی لیکن میرے اپنے بنگلہ دیش نے بھی دل کا مرض یا نابینا پن کی سزا نہیں دی ۔لیکن ہندوستان نے مجھے تڑپا تڑپا کے مارا ،آخر ہندوستان نے مجھے کس جرم کی سزا دی ہے۔ہندوستان کو میں نے بہت پیارکیا ،اسے اپنا ملک مانا اسی کی مجھے سزا دی گئی ہے۔‘‘۔
اب آپ ان باتوں پر کیا رد عمل طاہر کریں گے؟معاملہ اظہار رائے کی آزادی کا ہے ۔اگر تسلیمہ نسرین کو کل یہ آزادی حاصل تھی تو آج بھی حاصل ہے ۔آپ کو اس پر چیں بہ جبیں نہیں ہونا چاہیے البتہ آپ کو بھی حق ’’اظہاررائے‘‘ کی آزادی ہے آپ بھی اپنا حق استعمال کریں۔ کیایہ سارا معاملہ صرف اظہار رائے اور آزادی جیسے دو خوشنما اور سادے الفاظ کے آگے پیچھے گھوم رہا ہے یا پس پردہ کچھ اور ہے؟یہ ایک سوال ہے جو آج تسلیمہ کی حمایت کرنے والوں کے سامنے ہمالیہ کی شکل میں کھڑا ہے۔اسی اصطلاح ’’اظہار خیال کی آزادی‘‘ کے نام پر تسلیمہ نسرین کی حمایت کرنے والے اورمسلمانوں کو تنگ نظر یا بنیاد پرست کہنے والے اب ایسے منھ کھولے کھڑے ہیں جیسے کہ ان کے ہاتھ کے طوطے اڑ گئے ہوں یا چشم زدن میں ان کے پیرؤں تلے زمیں نکل گئی ہو ۔ بعض نے تو اظہار خیال کی آزادی کا مکھوٹا اتار کر اب دیش اور دیش کی عزت کہہ کہہ کر چلانا بھی شروع کردیاہے ۔جب کہ امر واقعہ یہ ہے کہ تسلیمہ نے کوئی نیا کام نہیں کیا ہے ۔مذکورہ واقعہ یا سانحہ صرف اس کی اظہار رائے کی آزادی سے جڑاہوا نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں اس کی سرشت اور فطرت تک گہری ہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ ہمارے حکمراں اور اسلام دشمن لوگ اس کو سمجھ ہی نہ سکے یا پھر دونوں واقعات کو الگ الگ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
ذرا تصور کیجئے ایک ایسی مصنفہ جو کہ دنیائے اسلام میں اس لئے ملعون اور مردود ٹھہری کہ اس نے نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کواپنے رکیک حملوں کا نشانہ بنا یا ۔ایسی محترم ذات جس نے دنیاکو راہ ہدایت سے سرفراز کرنے کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کردی ، راتوں کی نیند دن کا سکون ، مال واسباب، وطن عزیزکی محبت ، رشتے ناطے سب کچھ وار دیا ، تاکہ دنیا کے انسان آخرت میں خسارے سے بچ جائیں ، جہنم کی جھلسادینے والی آگ ، اور درد ناک عذاب ان پر حرام قرار پائے نیز دنیا کی زندگی بھی امن وامان کا نمونہ بن جائے ۔ایسے محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ۔۔۔صرف انسان بلکہ آسمان وزمین بھی تا قیامت احسان مند رہیں گے اورانھیں اس احسان مندی سے ایک لمحہ بھی مفر نہیں ۔اس محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی احسان فروشی کرنے والے یہ تسلیمہ نسرین اورسلمان رشدی کی قبیل کے لوگ ،جنہوں نے نہ صرف احسان مندی سے انکار کیا بلکہ بڑی جرات وبے باکی سے اس صاف اور شفاف ذات مبارکہ پر کیچڑ اچھالنے کی مذموم کوشش کی تو ایسے
لوگوں سے احسان مندی کی توقع رکھنا حماقت نہیں تو اور کیا ہے ۔لہٰذا جب ایسے لوگ اس محسن اعظم کی احسان فراموشی سے نہیں چوکے توبھلا اس احسان کو جو ہندوستان کے مفاد پرست حکمرانوں نے اس پر کیا وہ اس کو کب ماننے والے ہیں ۔در حقیقت ایسے کردار کے حامل افراد سے احسان فراموشی جیسے اخلاق حسنہ کی توقع رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔
ملعون تسلیمہ نے یہ بھی کہا کہ وہ یورپ کی کانفرنسوں میں بھارت کے اس رویے کو بے نقاب کرے گی ۔واضح رہے کہ 1994میں بنگلہ دیش سے جلا وطن ہونے والی تسلیمہ نسرین گزشتہ تین سال سے ہندوستان میں مقیم تھی ۔اس دوران اس کا زیادہ وقت مغربی بنگال کی راجدھانی کولکاتہ میں گزرا ۔اس کے پرانے ناول ’’لجّا‘‘کے زخم ابھی تازہ ہی تھے کہ ایک اور ناول ’’دو کھنڈتا‘‘میں اس نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیچڑ اچھالنے اور اسلامی تعلیمات کو اپنے رکیک حملوں کا ھدف بنانے کی کوشش کی۔جس کی وجہ سے کولکاتہ کے مسلمان سڑکوں پر آگئے اور متعدد پر تشدد مظاہرے ہوئے ۔ نتیجۃ مغربی بنگال حکومت کو پندرہ سال کے عرصے میں پہلی مرتبہ شہرمیں فوج طل بپڑی۔اورتسلیمہ کو بحفاظت کسی طرح راجستھان پہنچایا گیا ۔لیکن یہاں تسلیمہ کی حمایت کا دم بھرنے والی بی جے پی کی حکومت ہونے کے باوجود بھی اسے امان نہ مل سکی اور دلی کے کسی نامعلوم مقام پر سخت حفاظتی انتظام کے دوران ’’قید ‘‘ کردیا گیا ۔قید اس لئے کہ تسلیمہ نسرین نے اپنی اس رہائش گاہ کو موت کا چیمبر کہا ۔اور اب اس کے ازخود یہاں سے جانے کے فیصلے پر حکومت ہند نے اگلی منزل کا ہوائی خرچ بھی برداشت کیا ۔اور اس سب کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ہم حکومت ہند کے اس رویے کو اسلام دشمنی کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دے سکتے ۔ہندوستان دراصل ایسے بدقماش لوگوں کو پناہ دے کر مغرب میں اپنی سیکولریت اور اسلام دشمنی کی واہ واہی لوٹنا چاہتا ہے۔ورنہ یہاں اور بہت سے غیر ملکی رہتے ہیں ۔ان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہیں اور مزدور طبقہ بھی۔ لیکن ان پر کبھی نظر کرم نہ ہوئی ۔ہندوشدت پسند تنظیمیں اور نام نہاد آزاد خیال صحافی حضرات جو تسلیمہ کی حمایت میں کافی پیش پیش تھے ہمیشہ ہندوستان میں محنت مزدوری کرنے والے بنگلہ دیشیوں کے خلاف شمشیر بہ کف رہتے ہیں۔آخر ایسی کون سی خوبی تھی جو تسلیمہ نسرین اور رشدی میں ان کو نظر آگئی کہ اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جارہا تھا؟تعجب تو کانگریس حکومت پر ہوتا ہے جو ایک طرف اترپردیش اور بہار سے ممبئی آنے والے لاکھوں’’مہمانوں‘‘کی مبئی کی سڑکوںپر سر عام بے عزتی پر لگام کسنے کی ہمت نہیں جٹا پائی لیکن ایک ایسا ’’مہمان‘‘جو ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے نزدیک ملعون ہے ،کو سرکاری اعزاز دے کر رہائش فراہم کرتی ہے ،تحفظ فراہم کرتی ہے اور بے شما ر جھگڑے مول لے کر ملک کی سالمیت کا خطرہ مول لیتی ہے۔یہ مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی نہیں تو اور کیا ہے؟
تسلیمہ نسرین نے ہندوستان کو کئی موقعوں پر اپنا وطن ثانی کہا تھا۔اس روانگی کو ’’خود ساختہ جلاوطنی‘‘( سیلف ایکسائل ) کانام دیاجاسکتا ہے۔دراصل تسلیمہ کی اس روانگی سے دربار سیاست کے بہت سے ساز مرتعش ہوگئے ہیں ۔سیاست میں سب کے اپنے اپنے علیحدہ علیحدہ ساز اور لَے ہیں اور ان کی ترنگیں ہی ان کا مستقبل۔
۔(یو این این)۔
















