Urdu News - Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 4

Entries from April 2007

Pages: 1 2 3 ... 28

جامعہ حفصہ کی عزت مآب گمراہ عورتیں، حکومتی رٹ اور کراچی کی ٩ سالہ شنیلہ

April 26th, 2007 · No Comments

akhtar-bukhari1.jpgتحریر ۔اختر بخاری۔۔۔ ایف اے آئی

گلبرگ کراچی میں نا معلوم ترقی پسندوں نے ایک ٩ سالہ بچی کو اغوا کیا اس کے ساتھ زیادتی کی اور اسے بے ہوشی کی حالت میں دور دراز علاقے میں پھینک کر غائب ہو گئے. میٹھادر کراچی کا غفار چند روپے بچاتے بچاتے اپنی بیوی کو بیوہ اور لاڈلی کو یتیم بنا گیا.لاڑکانہ کے نزدیک رتو ڈیرو کے ایک گاؤں کا نوجوان کسان محمد خان کھوسو اپنی عمر بھر کی پونجی سے خریدے گئے ٹریکٹر کو بچاتے ہوئے عمر جاری سے ہاتھ دھو بیٹھا. خیرپور کا ٢٥ سالہ عبد القدیر کڑیو اپنے گھر کی دہلیز پر گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا. باڑہ میں چھ معصوم طالب علم سیکیورٹی فورسز کی دوستانہ فائرنگ کی بھینٹ چڑھ گئے. کراچی کے علاقے صدر کے ایک استاد کو دن دہاڑے اسکوٹر سواروں نے گولیوں سے بھون ڈالا اور چشم زدن میں پاکستان کی ایک اور بیٹی بیوہ اور دو معصوم یتیم کر دئے گئے. چنیوٹ کے محلہ عثمان آباد کا تیس سالہ منیر احمد نوکری سے واپس گھر نہ آسکا اور نا معلوم قاتلوں نے اسے راہی ملک عدم بنا دیا.سرگودھا کے تھانہ عطا رشید میں پولیس نے ایک شخص کو تشدد سے ہلاک کر دیا اور اب مقتول کے گھر والوں کو صلح پر مجبور کیا جا رہا ہے. چناب نگر میں اینٹوں کے بھٹے سے برکھا شیخ کی نوجوان بیٹی زاہدہ بی بی کو سات اوباش اغوا کر کے لے گئے.حافظ آباد کے محمد یوسف کی بیٹی رضیہ بی بی کو دس لاکھ تاوان کے لئے اغوا کر لیا گیا.شاد باغ لاہور کے ایک پیٹرول پمپ پر کام کرنے والے آزاد کشمیر کے حافظ لیاقت کو ڈاکوؤں نے رقم چھیننے کی کوشش میں موت کے گھاٹ اتار دیا.ریلوے پولیس ملتان کی لیڈی کانسٹیبل نسرین گل کو اس لئے نوکری سے ہاتھ دھونے پڑ گئے کہ وہ ڈی ایس پی کی خواہشات کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکاری ہوگئی تھی. مستونگ بلوچستان میں تین معصوم بچے نا معلوم دہشت گردوں کی دہشت گردی کا نشانہ بن گئے.اوکاڑہ میں پاک فوج کے کرنل ، ان کی اہلیہ اور دو بچوں کو رات کی تاریکی میں موت نے نگل لیا اور قاتلوں کو زمین کھا گئی. اورنگی ٹاؤن کراچی میںآ ٹھ ماہ کے شیر خوار عامر کی ماں شمائلہ اپنے سسرال والوں کے ہاتھوں لقمئہ اجل بن گئی اور ننھے عامر کو دودھ کی بجائے عمر بھر کا انتظار بخش گئی۔ پشین کے سرخاب مہاجر کیمپ میں چھ اور نو سال کی دو معصوم بچیوں کو زیادتی کے بعد ٹکڑے ٹکرے کر کے پھینک دیا گیا۔صوبھو ڈیرو سندھ کے زمیندار شفیق آرائین کو ڈاکو اغوا کر کے لے گئے.یہ ایک جھلک ہے حکومتی رٹ کی جو صرف ایک دن کے اخبارات سے جھانک رہی ہے. پاکستان کے سب بڑے شہر عروس البلاد کراچی کا رخ کریں تو حکومتی رٹ شہر کی ہر گلی، ہر کوچے اور ہر سڑک پر سسکیان لیتی نظر آتی ہے. ہر تیسری موٹر سائکل پر پولیس کی نمبر پلیٹ یا پولیس کے رنگ کی نمبر پلیٹ، کہیں بغیر کسی نمبر پلیٹ کے اور کہیں صرف Encounter لکھا ہوا نظر آئے گا. اور کسی موٹر سائکل کی نمبر پلیٹ پر تو صرف بھائی لکھا ملتا ہے،ہر دسویں گاڑی کے شیشے کالے، ایمرجنسی یا پولیس لائٹ نظر آئے گی. تعلیمی اداروں میں آتشین اسلحہ، منشیات اور Enlightened Moderation کے ایسے مناظر دکھائی دیتے ہیں کہ حکومتی رٹ بھی شرم سے منہ چھپانے پر مجبور ہو جاتی ہے.ایک دن میں سیکڑوں موبائل فون چھن رہے ہیں درجنوں گاڑیاں چھینی جا رہی ہیں۔ سندھ کے نوجوان وزیر ریوینیو عرفان گل مگسی لینڈ مافیا کے ہاتھوں بے بس ہوچکے ہیں،ان کے اتحاد میں شامل غیر منتخب لوگ قبضہ مافیا سے قبضہ کارٹیل کی شکل اختیار کر چکا ہے. صبح کے وقت آپ اپنے پلاٹ پر جائیں تو وہ آپ کا ہوگا، دوپہر کو وہاں حکومتی لوگ دکھائی دیں گے اور شام کو اس کی فائل تیار ہوچکی ہوگی اور اگلے روز وہاں لکھا ہوگا کرنل فلاں فارم، میجر فلاں فارم، یہ زمیں میجر …… کی ہے. وغیرہ وغیرہ
حکوتی رٹ کی روح فرسا چیخیں تو 12 اکتوبر 1999 کی شام سے آج تک وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد کے ارد گرد گونجتی سنائی دیتی ہیں جب دو تہائی اکثریت کے حامل وزیر اعظم نے اپنے آئینی، قانونی اختیارات کو استعمال کیا اور تاریخ کا عبرت ناک باب بنا دیا گیا. حکومتی رٹ تو قصر صدارت کے کسی کونے میں اسی دن اوندھی جا پڑی تھی جس روزایک منتخب صدر مملکت کو قصر صدارت سے اس طرح روانہ کیا گیا کہ مسواک تک اٹھانے کی اجازت نہ دی گئی. حکومتی رٹ تو کراچی اور سندھ کے ہزاروں بے گناہوں کی قبروں پر لپٹی بھی نظر آجائے گی جو گمنام قاتلوں کی اندھی گولیوں کا شکار بنے ، حکومتی رٹ تو ان سیکڑوں جید علما کے خوں ناحق سے تر بتر پارہ چنار سے کراچی تک پاگل پاگل گھومتی پھر رہی ہے جن کے قاتل ہر سو موجود ہیں لیکن ہر دسترس سے دور. حکومتی رٹ پاکستان اسٹیل مل کی نجکاری کی فائلوں میں بھی جھانکتی ہے تو یو بی ایل کی کے بند دروازوں سے بھی، کراچی کے ہر انڈر پاس کے نزدیک بھی حکومتی رٹ سسکتی دکھائی دیتی ہے تو کراچی کے ہر فلائی اوور کے ساتھ لٹکتی ہوئی بھی نظر آتی ہے. حکومت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی رٹ تو دینی مدارس میں قرآن حفظ کرنے والے معصوم بچوں کی آنکھوں میں نمایاں خوف سے بھی دکھائی دیتی ہے اور مساجد ، امام بارگاہوں میں نمازیوں کے دھڑکتے دلوں میں بھی. حکومتی رٹ بلوچ رہنما اکبر بگتی کی قبر سے اٹھتے طوفانی بگولوں میں بھی نظر آتی ہے اور زبیدہ جلال کے خوفزدہ چہرے سے بھی. حکومتی رٹ تو چیف جسٹس پاکستان کی معنی خیز مسکراہٹ سے بھی جھلکتی ہے تو بقول جنرل پرویز مشرف چیف جسٹس کے زیر استعمال سرکاری ٹوتھ پیسٹ کی منہ چڑاتی خالی ٹیوب سے بھی. حکومتی رٹ تو اس کال کوٹھڑی سے بھی جھانکتی دکھائی دیتی ہے جہاں مخدوم جاوید ہاشمی بند ہے اور وہان سے بھی صاف نظر آتی ہے جہاں تحریک نفاذ شریعت محمدی کے مولانا صوفی محمد قید ہیں.حکومتی رٹ تو سندھ کے وزیر اعلی ہاؤس سے بھی جھانکتی دکھائی دیتی ہے جہاں کبھی سردار علی محمد مہر کی روشن خیالی کا دور دورہ تھا اور ّج پنج وقتہ نماز کا باقاعدہ اہتمام ہوتا ہے. حکومتی رٹ تو کراچی کے ان سیکڑوں پولیس افسروں اور جوانوں کے خون میں لتھڑی کراچی ائرپورٹ پر اترنے والے ہر وی آئی پی سے ان کے قاتلوں کا پتہ پوچھتی نظر آتی ہے . حکومتی رٹ کا کیا کہنا جس طرف آنکھ اٹھاؤں تیری تصویراں ہے … نہیں معلوم کہ یہ خواباں ہے کہ تعبیراں ہے۔
اب کراچی سے گلگت تک اگر کہیں حکومتی رٹ دکھائی یا سنائی نہیں دیتی ہے تو وہ اسلام آباد کی لال مسجد جس کا سنگ بنیاد جنرل محمد ضیا الحق نے رکھا، جس کے ساتھ مدرسہ حفصہ کے لئے پلاٹ جنرل محمد ضیا الحق نے عطا فرمایا، جہاں تین ہزار سے کچھ زائد بیٹیاں اور بہنیں دینی علوم کی اعلی تعلیم حاصل کر رہی ہیں جن کا پردہ عین اسلامی احکامات کے مطابق ہیں جن کا چہرہ یا ہاتھ تو دور کی پیروں تک پر کسی غیر کی نظر نہیں پڑ پاتی. جن میں اکثر ایم اے، ایم ایس سی اور حافظ قرآن ہیں. لال مسجد سے چند سو گز کے فاصلے پر وجود پاکستان کا سب سے موثر خفیہ ادارہ جو نہ صرف اندرون ملک وطن کی بقا اور سلامتی کی علامت ہے بلکہ بیرون ملک بھی وطن عزیز کے دفاع کا آہنی حصار ہے اس کے قریب کسی بھی جگہ پر میزائل، مہلک ہتھیار یا دہشت گرد بوجوہ اپنا وجود برقرا ر نہیں رکھ سکتے لیکن جنرل محمد ضیا الحق کے فرزند بلند اقبال آکاش بیل میں لپٹی ایک وزارت کی خاطر اتنی دور نکل گئے ہیں کہ انہیں جامعہ حفصہ کی یہ عفت مآب بیٹیان اور بہنیں دہشت گرد دکھائی دینے لگی ہیں ، ان کے ہاتھوں میں موجود لکڑی کے ڈندے میزائل اور آتشین اسلحہ نظر آتا ہے. شائد اعجاز الحق کے زریں خیالات سے متاثر ہو کر ہی صدر مملکت جنرل پرویز مشرف نے جامعہ حفصہ کی طالبات کو گمراہ عورتوں کا خطاب عطا فرمایا ہے. فیصلے کا انتظار ہے جہلم کی دو بچیاں اپنا مقدمہ لے کر جامعہ حفصہ تک آن پہنچی ہیں اور جامعہ حفصہ کی انظامیہ نے حکومتی رٹ کو بے نقاب کرنے کی خاطر جہلم کی بے آبرو ہونے والی دونوں بہنوں کا مقدمہ چوہدری شجاعت کے ہاتھ میں تھما دیا ہے. آنٹی شمیم کی پارسائی ثابت کرنے والی خواتین کے حقوق کی محافظ تنظیمیں ان دو بہنوں کو مظلوم تسلیم کرتی ہیں یا انہیں بھی جامعہ حفصہ کی گمراہ عورتوں میں شامل کر دیا جاتا ہے ساتھ ساتھ ایک خوف بھی حکومتی رٹ کی مانند پروان چڑھ رہا ہے، چوہدری شجاعت تو اکبر بگتی کی طرف بھی گئے تھے؟

Tags: Columns