
عوامی راہنما جب تک اپنے عمل سے یہ ثابت نہیں کریں گے کہ ان کے اقدامات واقعی عوام کے مفاد کے تحفظ کیلئے ہیں انہیں مفاد پرستی اور عوام دشمنی جیسے الزامات کا سامنا رہے گا۔پیپلز پارٹی پنجاب کے راہنماحاشیہ بردار کا کردار کیوں ادا کرنا چاہ رہے ہیں ۔حالانکہ انکی اپنی کوئی غلطی نہیں لیکن دوسروں کے گناہ چھپانے کا اورانکی ترجمانی کا انہیں خمیازہ بھگتناپڑے گا۔اس کے پیچھے مفاد اور مصلحت کے سوا کیا امر پوشیدہ ہو سکتا ہے ۔یہ ایک علانیہ حقیقت ہے کہ پارٹی کی تصاویر ویب سائٹ پر کافی دن پہلے سے آچکی تھیں ۔اس میں نظر آنے والی بے باکی انکی اصول پسندی اور اخلاقیات کے اعلی اصولوں کی آئینہ دار ہے۔واقعی ایک اسلامی ملک کے سب سے بڑے صوبے کے سب سے بڑے کا طرز رہائش اور رکھ رکھاؤ ایسے ہی ہو نا چاہیے۔آخر وہ گورنر ہیں کوئی گریڈ ٤ تو نہیں کہ چھابے پر روٹی رکھ کر کھائیں ۔سوکھی روٹی کو نگلنے کیلئے چائے بآواز بلند نوش فرمائیں ۔سٹیٹس بھی کوئی چیز ہوتاہے ۔انہیں ابھی شاید لباس کی تنگی کا سامنا ہے یا شاید مشرقیت آڑے آرہی ہے۔سب بکواس اور بودی اور تنگ نظری کی باتیں ہیں ۔چار دن کی زندگی ہے اور وہ بھی بندہ اپنی مرضی اورارمانوں سے نہ جی سکے ۔یہ تو تقاضا ہے ان عہدوں کا ان مرتبوں کا ۔اگر انہوں نے وزیر اعلی پنجاب کو خط لکھ دیا تو کون سا جرم ہو گیا ۔اگر جوکچھ وہ کر چکے ہیں وہ جرم نہیں تو خط کیسا جرم ہے۔وزیر اعلی پنجاب کو بھی غریبوں اور فقروں کا درد اٹھتارہتا ہے ۔خود کو وزیر اعلی پنجاب کہلانے کی بجائے خادم اعلی جیسے غریب المعنی لفظ سے یاد کرتے ہیں ۔اب اگر سیکورٹی معاملات درست ہوتے تو یہ خبریں لیک نہ ہوتیں۔یہ ان کی کوتاہی ہے ۔انہیں وزیر اعلی رہنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ گورنر کی سیکریسی آوٹ ہونے کے ذمہ دار ہیں ۔گورنر کی تو کوئی ذمہ داری ہی نہیں ہوتی وہ تو فقط وزیر اعلی کو الجھانے کیلئے ہے تاکہ وہ وفاقی حکومت کیلئے کوئی مسلہ نہ کھڑا کر دیں ۔اس سے بیشک غریب عوام کیلئے مسائل کا انبار ہی کیوں نہ کھڑا ہو جائے ۔ان کے مسائل حل پذیر ی حاصل نہ کر سکیں ۔کیا عوامی انداز سیاست ہے۔عوام سے نفرت کا یہ کیسا رنگ ہے کہ ملک کو سنگین ترین جرائم میں ملوث افراد بیرون ملک پناہ گزین ہیں ۔ان کا زریعہ معاش بھی معلوم نہیں ۔ایک متوسط گھرانے کا فرد بغیر معاش کے یوں خم ڈھونگ کر دیا ر غیر میں بیٹھا رہے ۔حکومتوں کو باقاعدہ ہدایات بھی جاری کر ے ۔ملک کے اندر ملک کو لوٹنے والے اور آئین کے چور بیٹھے ہیں لیکن کبھی ایسا فیصلہ صادر نہیں کیا گیا کہ انہیں انڑپول کے زریعے گرفتار کر یا جائے ۔ملک کے اندر سابقہ دور کے سیاستدان حکمران اور بیروکریٹس سب موجود ہیں کیا ان کے احتساب کیلئے کوئی ایکشن لینے کی بات ہوئی ۔عوام کو دہشت گردی اور اقتصادی بحران سے ڈرانے والوں کیلئے لاکھوں روپے کے ناشتے فراہم کرنا اگر حکومت کی ذمہ داری ہے تو قوم کے بھوکے افراد کو بھی روکھی سوکھی مہیا کرنا آئی ایم ایف کی ذمہ داری کیوں ؟کیا قومی اور اس سطح کے سیاسی راہنما اس قد ر قومی حمیت سے عاری اور لاغر لاچار ہیں کہ وہ اپنا ناشتہ بھی قومی خزانے سے حاصل کرتے ہیں۔مصلحتوں کے شکار محسن پاکستان کے متعلق تو یہ کہتے ہیں کہ ان کے لیے آواز وہ بلند کرے جس کا ان سے خونی رشتہ ہو۔کیا انہیں ان کے قوم سے رشتہ میں کوئی شک ہے۔انہیں بھی اگر باہر نکل کر اپنا موقف بیان کرنے کیلئے آزاد کیا جائے تو رسوائی کا ایک سونامی منتظر ہے۔شاید مصلحتوں کے کھلاڑی چیف جسٹس کو امریکہ میں ملنے والے اعزاز کو بھی اسی لیے نظر انداز کرانا چاہتے ہیں ۔سرکاری اشتہارات پر پلنے والے کبھی بھی سرکار سے بغاوت کا نہیں سوچ سکتے اور نہ ہی چار دن کی زندگی کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ملک کو اقتصادی بحران کا سامنا ہے لیکن صرف غریب عوام کی فلاح کیلئے قومی خزانے میں رقم نہیں ۔٧٠ بیروکریٹس صرف مطالعاتی دورے پر ملک ملک گھوم کر عوام کے خون پسینے کی کمائی پر داد عیش دیں گے۔کیا سیکھنا چاہتے ہیں ۔کیسا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں ۔کون سے علم پر دسترس حاصل کرنا مقصود ہے ۔کیا پاکستانی معاشرہ ان کے لیے درس گاہ کا درجہ نہیں رکھتا۔خدمت کرنے کیلئے مطالعہ کی نہیں درد دل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ار یہ درد دل اپنے بھائیوں کے خون میں نہائے ہوئے لاشے دیکھ کر نہیں ابھرا تو در غیر کی سیاحت اس کا باعث کیونکر ہوسکتی ہے ۔دیار غیر میں وہ کونسی درس گاہ ہے جو پاکستان کے غریب عوام کیلئے درد دل بانٹ رہی ہے۔ایسا کون سا انسٹیٹوٹ ہے جہاں غریب اور چھوٹے ملازمین کیلئے مراعات کے پیکج تیار ہوتے ہیں۔انہیں کون سمجھائے اور بتائے گا کہ پاکستان ہاؤسنگ اور وزیر اعظم ہاؤسنگ سکئم کیلئے فنڈز کہاں سے دستیاب ہونگے ۔واہ ری سیاست گریڈ سترہ سے اوپر والے غریب افراد کیلئے تو حکومت بینکوں کے پیٹ کاٹ کر بھی رقوم نکال لاتی ہے لیکن غریبوں کیلئے اسے انتظار ہے کہ دیگر اقوام عالم ان کی مدد کو آئیں۔کیوں نہ اس ملک کے غریب زلزلہ کی آفت کے بعد سسک سسک کر اپنوں کا گلہ کریں ۔صدر وزیراعظم کو ان سے ہمدردی کیلئے جانے کا وقت نہیں ملا ۔ہمیں گلہ رہے گا کہ میاں صاحب نے بھی اپنی روایات سے کوتاہی انحراف برتا۔ورنہ وہ تو ایسے موقعوں پر کیچڑ میں کیچڑ ہو جاتے تھے ۔آپ سے گلے شکوے بڑھتے جا رہے ہیں ۔نام آپ کا بھی مصلحت کے شکاروں میں ہو رہا ہے ۔عوام کا مان ٹوٹ رہا ہے۔ان کے ارمان دم توڑ رہے ہیں ۔افتخار چوہدری کے ساتھ محسن پاکستان کیلئے آپکی آواز خاموش کیوں ہوئی؟زلزلہ متاثرین نے آپکے امیدوار کو واضح ترین مارجن سے مسترد کیوں کیا؟آپ نے زرمبادلہ سکینڈل کیلئے حکومت سے وضاحت کیوں طلب نہیں کی ۔پاکستان کی سرحدی خلاف ورزیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کیوں نہیں کراتے ؟یقینا ملک کو درپیش مشکلات کا تقاضا ہے کہ جمہوری حکومت کو عدم استحکام کا شکار نہ ہونے دیا جائے ۔آپ نے آواز بلند کی تو نجکاری کا عفریت اپنی نحوست ٹال گیا۔حکومت کی غلط پالیسیاں روکنا آپ کا اولین فرض ہے ۔جو شاید آپ سمجھ سکتے ہیں وہ ان کیلئے مشکل ہوگا۔تجربہ کار اور تجربہ کرنے والے میں یقینا فرق ہوگا۔اگر یہ خیال ہے کہ غلط اقدامات سے حکومت کی اخلاقی پوزیشن کمزور ہو گی اور آپ کی مقبولیت کا گراف بلند ہو گا تو یہ بھی مصلحت اور مفاد پرستی ہے۔یہ بھی خیال کریں کہ ان کی غلط پالیسوں سے پاکستان اور پاکستانیوں کا نقصیان ہو رہا ہے ۔ہر گز حب الوطنی کا تقاضا نہیں کہ ملک اور قوم کا نقصیان ہوتا رہے اور صرف اس لیے دیکھا جائے کہ اس سے سیاسی مخالفین کمزور ہورہے ہیں۔ایک قوم پرست محب الوطن راہنما کا تقاضا یہ ہے کہ حکومت کو غلط راہ پر چلنے سے روکا جائے ۔ان مصلحت کے شکار ہونے والوں کی سیاست کا شکار ان کے اپنے بھی ہیں۔ابھی نوکریوں کیلئے جوتیوں میں دال بٹنا شروع ہو گئی ہے کل اور بہت کچھ منظر عام پر آئے گا۔شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار جان لیں کہ سیاسی مصلحت بھی ہیرو کے گانے کی طرح ہوتی ہے ۔جیسے وہ سب سے چھپا کر صرف محبو ب کیلئے گارہا ہوتا ہے اور سب اسکی طرف متحیرنگاہو ںسے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔وہ تو اپنی ترنگ میں گاتا ہے لیکن محبوب کے پردے فاش کر رہا ہوتا اور ان پر تصدیق کی مہر ثبت کر رہا ہوتا ہے۔سیانے ان سے دوری کو ہی بھلائی جانتے ہیں۔
















