تازہ کالم تجزیے مضامین انٹرویو فیچر

اگر ملک کی مجمو عی امن و آمان کی موجودہ صو رت حال کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے جیسے ملک میں نہ قانون ہے نہ حکومت ، نہ صدر ہے اورنہ وزیر اعظم، ملک ہر طر ف لاقانونیت ، بد نظمی، افراتفری اور امریکہ کی انتہا پسندی اور دہشت گر دی کی جنگ کا شکار ہے ۔ اب نہ تو لوگوں کا قومی اسمبلی پر یقین رہا ، نہ سینیٹ پر نہ گو رنر پر اور نہ وزیر اعلی پر۔ حکمرانوں، وڈیروں، جاگیر داروں، سرمایہ داروں اور کا ر خانہ داروں کے ہا تھوں معا شرے کے پسے ہوئے طبقات کی نظریں یاتو چیف جسٹس پر مر کو ز ہیں اور یا پریس اور پریس کلب کی طر ف ۔ ایسا لگتا ہے کہ اس ملک میں چیف جسٹس ،پریس اور پر یس کلب کے علاوہ نہ تو ان غریبوں کا کوئی سُننے والا اور نہ مسائل حل کر نے والا ہے۔ جس وقت بھی پریس کلب کے باہر دیکھو تو ہر وقت معا شرے کے پسے ہوئے لوگوں کا جمگھٹااکٹھا رہتا ہے۔ گذشتہ دن نیشنل پریس کلب اسلام آبادگیا تو نشاط مل کے وہ مزدور اکھٹے ہو گئے تھے جنکو نواز شریف اور موجودہ صدر آصف علی زرداری کے دوست اور نشا ط گر وپ آف کمپنیز کے چیر مین میاں محمد منشاء نے اسی پا داش میں فیکٹری سے نکا لا تھا کہ اُنہوں نے نشاط ملز فیصل آباد میں مزدور یو نین بنا نے کے لئے این اے آر سی میں درخواست دی تھی۔ جن مزدوروں نے اپنے مطالبات کے حق میں بھو ک ہڑ تال کی تھی اس میں دو مزدور مظاہرے کے دوران بے ہو ش ہو کر گر گئے اور پریس کلب کے ساتھی اُنکو ہسپتال پہنچا کر جان بچا ئی۔ یہ مز دو ر آج کل پنڈی اسلام آباد کی تا ریخ میں شدید ترین گر می میں ایک خیمے میں پڑے ہو ئے ہیں ۔ نہ تو بے چا روں کے پا س کھانے پینے اور نہ دوسری ضروریات زندگی کے لئے پیسے ہیں۔ اگر ہم پا کستان پیپلز پا رٹی کے انتخابی نعروں پر نظر ڈا لیں تو پاکستان پیپلز پا رٹی کا نعرہ ہمیشہ مزدوروں اور کم مرا عات یا فتہ طبقے کے لئے ہوا کر تا تھا ۔ پاکستان پیپلز پا رٹی کو اگر ما ضی میں لوگوں نے ووٹ بھی دئے ہیں تو وہ مزدور اور ورکنگ کلاس ہی نے دئے۔ پاکستان پیپلز پا رٹی اور انکے قائدین جس میں ذولفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو مز دوروں اور پسے ہوئے طبقے کی بات کر تے، مگر بد قسمتی یہ ہے کہ پیپلز پا رٹی اس دور حکومت میں ساری چا لیں ملک کے مزدور اور کم مراعات طبقے کے خلاف چلائی جاتی ہیں۔ اگر پی پی پی کے 2008 کے انتخابی نعروں پر نظر ڈالیں تو اس میں بھی مزدوروں کے حقوق پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے مگر بد قسمتی سے وہ سارے نعرے ایک کھوکلے پروپیگنڈے سے کم نہیں ۔پی پی پی کی 2008 کے انتخابا ت کا نعرہ جسکو5E ای سے یعنی ای سے(Education تعلیم)، ای سے ( Environmentما حولیات)،ای (Energyیعنی توا نائی)، ای (Employmentیعنی ماحولیات) اور ای( Equality یعنی برا بری ، مسا وات اور انصاف) ۔ مگر ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ نہ تو ملک میں بجلی ہے ، نہ تعلیم ، نہ نو کریاں، نہ ما حولیات اور نہ مساوات اور انصاف کی طر ف کوئی توجہ دی جاتی ہے۔ بلکہ پاکستان میں ہر طر ف ایک ہُو کا عالم ہے یہاں پر ہر آدمی انصاف کے حصول اور مسا وایانہ روئے کا متقا ضی ہے۔ یہ کتنی بد قسمتی کی بات ہے کہ پا کستان کا سب سے مالدار ترین پاکستانی اپنے فیکٹری مزدوروں کو صرف اس پا داش میں کا رخا نے سے نکا لا ،کیونکہ ان مزدوروں اور پسے طبقے کے لوگوں نے ایک مزدور یو نین بنانے کی کو شش کی۔ اگر ہم تھوڑا سا ماضی کی طرف جائیں تو غا لباً 29ما ر چ 2008 کو سید یو سف رضا گیلانی نے اپنے تقریر میں کہا تھا کہ یو نین پر سے پا بندی ہٹائی جاتی ہیں۔ مگر پا کستان پیپلز پا رٹی کے دور حکومت میں مز دوروں اور پسے ہوئے لوگوں پر زور ظلم کیا جاتا ہے۔ اگر ہم پاکستان پیپلز پا رٹی کی تا ریخ پر نظر ڈالیں تو یہی پسا اور مظلو م طبقہ پی پی پی کا ہر اول دستہ ہو ا کر تا تھا مگر اُ سی پا رٹی کی طر ف سے اُ س پر بجلیاں گرائی جا تی ہیں ۔جو مزدور، ہا ری، فیکٹری، ملوں کے مز دور اپنی پا رٹی سمجھتے تھے۔اگر ہم اس ملک کے کا رخا نہ داروں ، سرمایہ داروں اور جا گیر داروں کو دیکھیں تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اس ملک کے غریبوں کی خو ن پسینے کی کمائی پر مل اور کا ر خانے لگا کر اپنے تجارت اور کا رخانوں کو پر وان چڑ ہایا اوران غریب لو گوں کا خو ن چو س چو س کر ہی اپنے ملکی اور غیر ملکی تجو ریاں بھر دیں مگر بد قسمتی سے یہ سر مایہ دار، جا گیر دار اور وڈیرے اب ان مزدوروں کے جسم میں ایک قطرہ خون چھو ڑنے کا بھی رواد ار نہیں۔ میں ملک کے ان غریب عوام کے خون میں رنگے ہوئے جا گیر دار ، سر مایہ دار، وڈیروں ظالموں اور خو نخواروں سے استد عا کر تا ہوں کہ اس ملک کے پسے ہوئے مظلوم طبقے پر مزید ظلم نہ کریں ، کیو نکہ ہر ظلم اور زیا دتی کی ایک انتہا ہو تی ہے ایسا نہ ہو کہ اب ان مظلوم اور پسے ہوئے لو گوں کے ہا تھ آپکے گریبان تک جاپہنچیں۔ میری پا کستان پیپلز پا رٹی اور پا کستان مسلم لیگ نواز کی حکومت سے در خواست ہے کہ جن کے خون پسینے کی کمائی پر تمھارا ایوان صدر ، تمھا را وزیر اعظم ہاؤس، چیف منسٹر اور گو رنر ہا ؤ س چلتے رہتے ہیں اور جسکے خون پسینے کی کما ئی سے تُم چو دھری، خان ، نواب، سر مایہ دار اور جا گیر دار اور اس ملک کے بڑے ہو،اسکو اتنا تنگ نہ کیا جائے کہ تنگ بجنگ آمد والی بات ہو جائے۔حکمرا ن یہ با ت ذہین نشین کر لیں کہ اس دھر تی کے لو گ پہلے سے لا قانو نیت، ، لوڈ شیڈنگ ،مہنگائی، بے رو ز گا ری ، کم تنخواہوں، زند گی کی بنیا دی آسانیوں اور محرومی سے دو چا ر ہیں اور ان میں اتنی سقت نہیں کہ مزید ظلم اور جبر بر داشت کر لیں۔ یہ بھی کتنی بد قسمتی کی بات ہے کہ جن مزدور ، ہا ری ، کسان سے جس سیاسی پا رٹیوں نے ووٹ لئے تھے مگر اب تو نہ تو پا کستان پیلز پا رٹی، نہ پا لستان مسلم لیگ (ن) اور نہ کسی اور سیاسی پا رٹی کا کوئی نمائندہ نہ تو اس کیمپ گیا تھا ا ور نہ ان لوگوں سے پیار کے دو بول بو ل دئے۔ اسی طر ح 19-4-2008 پنجابکے سابق وزیر اعلی دوست محمد کھو سہ نے ڈہائی ہزار کنٹریکٹ ملازمین کو بجنبش قلم نکالا اور اس کے لئے یہ جواز پیش کیا جا رہا تھا کہ انکی سیاسی وابستگی پاکستان مسلم لیگ(ق) سے تھی۔ مگر میں نوا ز شریف اور خادم پنجاب شہباز شریف سے پو چھتا ہوں سے کہ ایک چھوٹے سرکاری ملازم کی کیا وابستگی ہو سکتی ہے۔وہ نواز شریف اور خا دم پنجاب کا کیا بگا ڑ سکتا ہے۔ میری صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعلی شہباز شریف سے استد عا ہے کہ نشاط ملز فیصل آباد اور دوست محمد کھو سہ کے دور میں نکالے گئے ملازمین کو فی الفور بحال کر کے انکے خاندان کو فاقوں سے بچا یا جائے۔ اور انکی بد دعاؤں سے بچا جائے کیونکہ مظلوم کی بد دعا سے عرش بھی لرز اور کانپ جاتا ہے
Tags: Articles , ; Columns , ; Ejaz Ahmed

بات منوانے کا ڈھنگ کسی کونہیں آتا
اِس حقیقت سے تو کوئی بھی قطاً انکارً نہیں کرسکتا کہ بات کرنی تو ہر کسی کو آتی ہے مگر بات منوانے اور اِس پر عمل کروانے کا ڈھنگ کسی کسی کوہی آتا ہے اور ایسا ہی کچھ آج کل ہمارے یہاں بھی حکومت سے لے کر نچلے طبقے تک ہورہاہے ارے بھئی اگر کوئی گڑ سے ہی مرجائے تو بھلااُسے مارنے کے لئے زہر کی کیاضرورت ہے یہ بات اِن دنوں نہ تو حکومت ہی سمجھ رہی ہے اور نہ شدت پسند ہی اِسے پوری طرح سے ماننے کو ہی تیار ہیںکہ دونوں اپنی اپنی حیثیت کو سمجھیں کہ دونوں ہی اپنی جگہہ کتنی اہمیت کے حامل ہیں مگر نہیں دونوں ہی اپنی ضد اور انا پر ہی اڑے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کے دشمن بننے ہوئے ہیں حالانکہ بات کچھ بھی نہیں ہے یہ بات بھی دونوں ہی خوب جانتے ہیں مگر بس انا اور ضد ہے کہ ایک دوسرے کو جھکنے ہی نہیں دے رہی ہے ۔۔۔۔۔اللہ ہی جانے کہ اِن دونوں کی ضد اور انا انہیں کہاں پہنچاکر دم لے گی ۔
بہر کیف !دنیا میں تو ویسے بے شمار مقابلے ہوئے اور ہورہے ہیںاور ہوتے رہیں گے مگر ہمارے ملک میں جب بھی کوئی مقابلہ ہواوہ ہر لحاظ سے منفرد اور بے مثل ہی رہا ہے جیسا کہ یہ مقابلہ سروں کی قیمتیں مقرر کرنے کاہے جو حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان بڑے زور و شور سے جاری ہے اور یوںاب تو گزشتہ کئی دنوں سے دونوں ہی جانب سے ایک دوسرے کے سروں کی قیمتیں مقرر کرنے کا ایک عام سا رواج بھی چل نکلاہے اِس کے ثبوت کے لئے چوکادینے والی ایک خبریہ ہے کہ اِس بارتوکالعدم تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر مولوی نورسید نے ملک کے ایک معروف اخبار سے رابطہ کرکے اپنے پورے انقلابِ عزم کے ساتھ یہ کہاہے کہ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں اور حکومت ناکام ہوچکی ہے وہ عوام کو لالچ دے کر لڑاناچاہتی ہے مگر ہم تحریک کے مقصد کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور ہم نے حکومت کی جانب سے اپنے رہنماؤں کے سروں کی قیمت کے فیصلے کو یکسر مسترد کردیاہے اور اِس بار ہم نے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے سر کی قیمت 10کروڑ روپے مقر کردی ہے ‘‘ یہاں پر سوال تو یہ پیداہوتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان نے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے سر کی قیمت کے عوض اتنی بڑی رقم دینے کا فیصلہ کدھر سے کرلیا ۔۔۔۔؟اور کیا اِس ادھ موئے گھوڑے(تحریک طالبان) میں اب بھی اتنی سکت (جان) باقی ہے کہ وہ حکومت سے اب بھی ٹکر لینی کی ہمت رکھتا ہے ۔۔۔؟؟ اِسی طرح دوسرا اور سب سے اہم ایک سوال یہاںیہ بھی پیداہوتاہے کہ اب عوام کو یہ بات بھی اچھی طرح یقین کرتے ہوئے سمجھ لینی چاہئے کہ تحریک طالبان پاکستان کو بیرونی (امریکا، بھارت اور اسرائیل کی پو ری حمایت حاصل ہے جن کی پست پناہی پر تحریک طالبان نے پاکستان میں دہشت گردی برپاکررکھی ہے) امداد مل رہی ہے اور اِسی طرح حکومت کی طرف سے ایک بار پھر ایک نئے جوش اور ولولے کے ساتھ ایک خبریہ بھی شائع ہوئی ہے کہ’’ حکومت نے بیت اللہ محسود اور اِس کے ساتھیوں کی زندہ یامردہ گرفتاری پر کروڑوں روپے کی انعامی رقم مقرر کرتے ہوئے مزید 11بڑے مطلوب افرادکے خلاف اشتہار جاری کیا ہے جس کے مطابق وہ افراد جو حکومت کو انتہائی مطلوب ہیں اِن میں3افراد کا تعلق جنو بی وزیرستان سے ہے اور دیگر 3کا تعلق باجوڑ ،2کامہمند،2کادرہ آدم خیل اور ایک کا تعلق کرم ایجنسی سے ہے اِس اشتہار کے مطابق بیت اللہ محسود کی زندہ یامردہ گرفتاری پر 5کروڑ روپے مقرر کیے گئے ہیں اور اِ س کے علاوہ باجوڑ کے مولوی فقیر کے سر کی قیمت ڈیڑھ کروڑ رپے ، مہمندایجنسی کے عبدالولی اور قاری شکیل ، درہ آدم خیل کے کمانڈر طارق، جنوبی وزیرستان کے حکیم اللہ محسود اور قاری حسین کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر ایک کروڑ کا انعام مقررکیاہے ۔اِن دونوں خبروں کااگر بغور جائزہ لیاجائے تو اب اِن دونوں میں ایک بات قدرے مشترک لگنے لگی ہے کہ حکومت پاکستان کوبھی امریکا سپورٹ کررہاہے تو اُدھر دوسری طرف اب یہ بھی واضح ہونے لگاہے کہ یہ امریکا تحریک طالبان کی بھی بھرپور طریقوں سے مالی مدد فراہم کررہاہے ۔۔۔یہ وہ لمحہ جس سے متعلق اَب اربابِ اقتدار اور اختیار کو بھی سوچناچاہئے کہ حکومت اور طالبان کا مشترکہ دوست اور دشمن کون ہے۔۔۔؟
بہرحال! یہ بھی کتناعجیب اتفاق ہے کہ ایک طرف توحکومت کو قومی خزانہ خالی ہونے اوراِسے پھر سے بھرنے اور اپنی ضرورتوں کو پوراکرنے کے لالے پڑے ہوئے ہیں تو دوسری طرف حکمران اِس ہی فکر میں گُھلے جارہے ہیں کہ اگر بیرونی امداد وقت پر نا ملی تو کہیں ایسا نہ ہوکہ اِن کی عیاشیوں کے ہاتھوں ملک کا دیوالیہ ہی نہ ہوجائے تو اِسی سوچ میں یہ وہی جاناپہچانااوراپنا پراناسا ایک انتہائی بوسیدہ کشکول جس پر جلی حروفوں میں میڈئن پاکستان درج ہے اِسے اٹھائے دنیابھر میں امداد کی بھیک مانگتے نہیں تھک رہے ہیں تو وہیں دوسری طرف یہی حکومت ہے کہ چند مٹھی بھر شدت پسندوں (ملک دشمن عناصر)کوروز بروز اشتہاری قرار دے کرملکی اخبارات میں اربوں روپوں کے اشتہارات الگ شائع کروارہی ہے تو اُدھر اِن اشتہارات میں یہ اعلانات بھیکرنے سے باز نہیں آ رہی ہے کہ شدت پسندوں کوزندہ یامردہ لانے والے کے لئے کروڑوں روپے کے انعام دیئے جائیںگے اِ س طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ اتنی حوصلہ افزا حکومتی افرز کے باوجود بھی اب تک حکومت کواِس میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے تو اِس کے برعکس حکومت کو ملکی اخبارات میںا شتہارات شائع کرانے کی مد میںبھی اب تک اربوں روپوں کے اخراجات کا علیحدہ سے نقصان برادشت کرنا پڑاہے ۔
جیسا کہ اِن دنوںہمارے ملک میں شدت پسندوں اور حکومت کی جانب سے ایک دوسرے کے سروں کی قیمتوں کے تعین کا جو ایک نیاسلسلہ چل نکلا ہے اِس کے بارے میں کچھ نہیں کہاجاسکتاہے کہ یہ اِدھر جاکر رکے کا بھی کہ نہیں۔۔۔۔۔؟اور اِس سلسلے کی آخری حد کیاہوگی…..؟ اِ س میں کِسے کامیابی نصیب ہوگی ۔۔۔؟تو کِسے اپنی زلت اور رسوائی کا منہ دیکھنے کو ملے گا۔۔۔۔؟ بہر حال یہ اُس وقت کی باتیںہیں ۔۔انہیں اُس وقت ہی موضوع بحث لایاجائے گا۔۔۔ اوراَب تو ہمیں ملک بھر کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پرمسلسل آنے والے اشتہارات سے تو یہ اندیشہ بھی کھائے جارہاہے کہ اگر حکومت آئندہ چند ایک ماہ میں اپنی اِس مہنگی ترین اشتہاری مہم سے بھی اپنے مطلوبہ افراد کو پکڑنے اور اِن تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہوسکی تو کہیں ایسانہ ہوکہ آئندہ چند ایک سالوں میں جو بھی ملک میں مالی سال کابجٹ پیش کیاجائے اُس وقت ملکی بجٹ تقریرصرف اِن مندرجہ زیل جملوں اور سطور تک ہی محدود ہوکر نہ رہ جائے کہ۔۔۔۔
’’ ملک میں شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اِن کی تخریبی کارروائیوں کے باعث ملک میںکسی بھی شعبے میں کو ئی پیش رفت نہیں ہوسکتی اور حکومت نے یہ تہیہ کر رکھاہے کہ شدت پسندوں کے خاتمے تک اِس سال کامالی بجٹ جواتنے کھرب روپے کا ہے یہ پو رے کاپورا بجٹ شدت پسندوں کو زندہ یا مرد ہ لانے والے کے لئے انعام کی مد میں مختص کیاجاتاہے ۔ پاکستان زندہ باد۔۔۔۔ ‘‘
یہ حقیقت ہے کہ ملک کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ حکومت شدت پسندوں کو یوں ہی چھوڑے دے اور وہ اپنی ضد اور ہٹ تھرمی سے حکومتی رٹ کے پڑخچے اڑاتے پھریںاگرچہ اِن بے لگام شدت پسندوں کولگام دینے اور اِن کا قلع قمع کرنے کے لئے حکومت پر لازم ہے کہ حکومت ایسی حکمتِ عملی اپنائے کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے اور اِس سے اچھی حکمتِ عملی اور کیا ہوگی کہ انتہائی نیک نیتی سے حکومت اپنے تئیں ایک بار پھر اِن شدت پسندوں سے مزاکرات کی شروعات کرے جو سابقہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث گمراہی کے راستے پر چل نکلنے ہیں حالانکہ وہ بھی کبھی محب وطن پاکستانی رہے ہوں گے اور آج بھی اِن کا کلیجہ پاکستان سے محبت میں ضرور پھٹا جاتاہوگا مگر وہ بھی مجبور ہیں کہ وہ دوسروں کے بہکاوئے میں آکر چند ڈالروں کے عوض وہ کچھ کرگزرنے پر مجبور ہیں جو اِن کا انویسٹر (سرمایہ کار)امریکا، بھارت اور اسرائیل اِن سے کروارہاہے۔
میرے خیال سے حکومت اور تحریک طالبان کی جانب سے ایک دوسرے کے سروں کی قیمتیں مقرر کرنے سے کسی کوکوئی فائدہ نہیں ہوگااِس عمل سے دونوں جانب سے سوائے رنجیشیںبڑھنے اور نفرتوں میں اضافہ ہونے کے اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوگالہذاضرورت اِس امر کی ہے کہ تحریک طالبان کے رہنماکسی کی مدد سے پاکستان میں بد نظمی پھیلانے کا اپنا گھناؤنا عمل فور ی طور پر ختم کرکے خود کو حکومت کے حوالے کرکے اپنے آپ کو ایک پکااور سچا پاکستانی ہونے کا ثبوت دے کر اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کریں اور خود کو اِس سرزمینِ پاکستان کے لئے ایک کارآمد فرد بناکر پیش کریں۔
Tags: Articles , ; AzamAzim , ; Columns

یہ ضروری نہیں ہوتا کہ درست و اکسیر نظر انے والی کوئی پالیسی صد فیصد درست ہو۔بعض اوقات تو یہ بھی ہوتا ہے کہ سفید و شفاف دکھائی دینے والی دلیلیں یا تجزیات کے اندر شب دیجور کی تاریکیاں برسا رہی ہوتی ہیں۔ایشوز کو سیاہ و سپید کے خانوں میں تقسیم کرکے سچائی تلاش کرنا شک و شبہات کو جنم دینے کا سبب بنتے ہیں۔اٍس تھیوری کو یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ کوئی بھی دلیل یا تجزیہ دیکھنے کی صورت میں بہاروں کی امد کا پیغام جانفزا سناتی ہیں مگر جب عرق ریزی کی جائے یا نتائج کو پرکھا جائے تو وہاں صرف خزاوں کا ڈیرہ اظہر من التمش ہوتا ہے۔ایسی باتیں فکری حقیقتوں کے ضمن میں زیادہ نازک بن جاتی ہیں کہ ایک تجزیہ اپنے مکان و بتان میں حرف آخر یعنی قابل عمل دکھائی دیتا ہے مگر بعد میں پتہ چلتا ہے کہ اٍسکا وجود ہی غلط ہے۔ایسی کشا کش میں سچ مضروضوں اور خود غرضانہ پالیسیوں کے قبرستان میں دفن ہوجاتا ہے۔دنیا کی دس ہزار سالہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جو سماج ایسے پر آشوب حالات کے دھارے سے دوچار ہوتے ہیں تو وہاں سچ جاننے اور فکری خدشات، فکری مغالطوں کا سینہ چاک کرنے کے لئے اہل قلم و اٍنٹیلی جنسیا اور دانشور ہی ایسا طبقہ ہوتے ہیں جو پیچیدہ معاملات کی تہوں سے مخفی سچائیوں کو سامنے لاتے ہیں۔آجکل سوات و وزیرستان میں ہونے والے فوجی اپریشن کے سلسلے میں بھی لغویات سے بھرپور شوشے چھوڑے جارہے ہیں اورconcipiraciy یعنی سازشانہ و خود غرضانہ فلسفوں کی بوچھاڑ ہورہی ہے۔عسکریت پسندوں کو حق پرستی و محافظین اٍسلام کا درجہ دینے والے حمایتوں کو تین گروپوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔اول یہ پرو طالبان لوگ ہیں جو افغانستان میں ملاعمر دور کو مثالی و اسلامی دور حکومت کا درجہ دیتے ہیں۔ایسے لوگوں کا فہم فکر و سوچ ایک ہی دائرے تک محدود ہے کہ عسکریت پسند بڑے پاکباز لوگ ہیں اور اٍنہی دہشت گردوں کو وہ اپنا ہیرو سمجھتے ہیں یہ بھلے مانس طالبان و ملاعمر کے ان متشددانہ اقدامات کو غلط نہیں کہتے حالانکہ ملاعمر اپنی غلطیوں کا اعتراف کرچکے ہیں۔اگر ایسے عقل کے اندھوں کو طالبان کے سفاکانہ عوامل و مظالم کی داستان سنائی جائے تو یہ اٍسے پل بھر میں بھارت اور امریکہ کی کارستانی کی قبا اوڑھ کر مسترد کردیتے ہیں۔دوم دوسرا طبقہ ان سادہ لوح پٹھانوں کا ہے جو نظام عدل کی رونمائی پر فسادی طالبان کے گرویدہ بن گئے تھے مگر جوں جوں حقائق منظر عام پر ائے تو اٍنہوں نے اپریشن کی حمایت شروع کردی۔متاثرہ علاقوں میں دانشوروں سیاسی پنڈتوں اور صحافیوں کا ہے جو دہشت گردوں کے فتنوں سے محفوظ رہنے کے لئے کھل کر عسکریت پسندوں کی مخالفت نہیں کرتے مگر نجی محفلوں تقاریب اور ٹی وی مناظروں میں اٍنکا نقطہ نظر قریب قریب حکومتی و فوجی پالیسیوں پر داد تحسین کے ڈونگرے برسانے پر مبنی ہوتا ہے۔سوم یہ گروپ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف اور اینٹی امریکن سوچ رکھنے والے لوگوں کا ہے جو طالبان کی متشددانہ پالیسیوں کے کبھی حمایتی نہیں رہے مگر وہ اپریشن کو سپورٹ کرنے سے صرف اٍس لئے متنفر ہیں کہ امریکہ اٍس اپریشن کا بڑا فریق اور حمایتی ہے مگر اٍسی قبیل کے پیروکار یہ نہیں سوچتے کہ سوویت افغان لڑائی میں اٍسی گروپ کے جہادیوں نے اٍسرائلی اسلحہ اٍستعمال کیا اور یہی ٹھکیدارانٍ اٍسلام امریکہ کی معیت و مفادات کے لئے برفانی ریچھ سے لڑتے رہے۔سوویت افغان جنگ کے دوران گلبدین حکمت یار نے پشاور میں یہودی فیکٹریوں اور صلیبی تاجروں کے توسط سے انے والی اسلحے کی ایک کھیپ وصول کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ خدا کی نصرت ہے کہ اس نے ایک شر کی وحشت کو تار تار کرنے کے لئے دوسرے شر کا اسلحہ دیا۔عمران خان عظیم کرکٹر تھا مگر وہ اپنے بے پایاں خلوص کے باوجود قوت فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے عاری ہیںجو کڑے وقتوں میں مصائب و مشکلات کا بروقت ادراک کرنے کی راہ دکھاتی ہے۔شائد یہی وجہ ہے کہ وہ سابقہ الیکشن میں قوت فیصلہ کے فقدان کی صلیب پر چڑھ گئے اور پارلمینٹ سے بھی بہت دور چلے گئے۔اپریشن کے مخالفین کے اعتراضات کا سرنامہ اٍن سوالات پر مبنی ہے۔اٍنکا موقف ہے کہ حکومت پہلے دہشت گردی کی تعریف و معیار مقرر کرتی۔قوم کو یکجو کیا جاتا تاکہ مکمل اتفاق رائے کا حصول ممکن ہو۔القاعدہ کے متعلق ابہام ختم نہ کرنے میں کیا مصالحت تھی۔حکومت دو رخی پالیسیوں پر کیوں عمل پیرا ہے۔سرکار نے اپنے من پسند طالبان کے خلاف لڑائی کیوں نہیں لڑی؟افغانستان کے جنگجووں کو درست کیوں سمجھا جاتا ہے؟خو کش حملوں کو حرام قرار دینے والے اٍسے فلسطین اور عراق میں ناجائز کیوں نہیں کہتے؟اٍن سلگتے سوالات کا جواب تو علماکرام ہی دے سکتے ہیں ہاں جہاں تک القاعدہ کا تعلق ہے ہم القاعدہ کے وجود سے ہی انکاری بن جاتے ہیں۔القاعدہ کے حوالے سے حکومتی یا نجی سطح پر بحث کرنا ضروری ہے۔ افغان طالبان کو اس لئے برا نہیں کہا جاتا کیونکہ امریکہ کے خلاف مزاحمت انکے گھر کا معاملہ ہے۔افغانستان کی پشتون بیلٹ جب تک طالبان کو اچھاسمجھتی رہے گی اس وت تک انہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔پاکستان میں جو طالبان گروپ خون ریزی کو پسند نہیں کرتے ان سے بات چیت کرنی چاہیے تاکہ انہیں فورسز کے ساتھ ملا کر دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لئے راضی کیا جائے مگر وہ طالبانی ٹولے جو حکومت کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں خود کش بمبار تیار کرتے ہیں اٍن کے خلاف مکمل فتح تک اپریشن جاری رکھا جائے۔عسکریت پسندوں کی کمر توڑے بغیر سیاسی حل کی باتیں کرنا دانش مندی نہیں۔دہشت گردوں سے تب ہی مزاکرات کئے جاتے ہیں جب حکومت مضبوط ہو۔اپریشن ناکام رہا تو ریاست کا وجود خطرے میں ڈبکیاں مارے گا۔یہ بھی سچ ہے کہ امریکہ کی وجہ سے حکومتی اداروں کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے۔اگر دہشت گردی کے لئے ہمیں امریکی حمایت مل رہی ہے تو اس سے فائدہ لینا چاہیے۔عالمی برادری میں باعزت مقام بنانے کے لئے کبھی کبھار دشمنوں سے ہاتھ ملانا پڑتا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان تین دہائیوں سے رنجش چل رہی ہے مگر ایرانیوں نے عراق کو خانہ جنگی سے بچانے کے لئے امریکہ جبکہ ایرانی اثر و رسوخ کے تابع افغانی ہزارہ قبائل کرزئی کی حکومت کی حمایت کررہے ہیں۔ حکومت پاکستان پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ امریکہ کی خوشنودی کے لئے ہر غلط درست کام کررہی ہے حالانکہ امریکی شکوہ کناں ہیں کہ پاکستانی فورس جلال الدین حقانی کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔ڈرون حملوں کا مقصد ہی پاکستان پر عدم اعتماد کررہی ہیں۔اٍس وقت لازم ہے کہ فوجی اپریشن کی کامیابی اور ریاستی سلامتی اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے اہل قلم کا فرض ہے کہ وہ عوام کو حقائق سے روشناس کروائے تاکہ اپریشن مخالف سیاسی جماعتوں دینی فرقوں اور اپریشن کو اچھی نگاہ سے نہ دیکھنے والے پاکستانیوں کو اپریشن کی حمایت پر کمر بستہ کیا جائے۔یاد رہے جب تک پوری قوم دہشت گردوں کے خلاف حکومتی دستٍ بازو کا کردار ادا نہیں کرتی۔قومی یکجہتی کو اپنا شعار نہیں بنایا جاتا تو پھر خود کش حملوں کا خون ریز طوفان تندہی سے جاری و ساری رہے گا اور ہم اٍسی خون کے دریاوں میں ایک نہ ایک دن ڈوب ہی جائیں گے۔
Tags: Articles , ; Columns , ; Rauf Amir

کیا پاکستان کا قائم رہنا یقینی ہے ؟جس ملک کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں ا س سے متعلق ایسے خدشات پیدا ہونا فطری سی بات لگتی ہے مگر کہتے ہیں کہ ناکامی کامیابی کی سیڑھی ہے اور ناکامی کامیابی کا سبب بنتی ہے اس تناظر میں دیکھا جائے تو ماضی میں ملک کی دو تین جنگوں کو چھوڑ کر کوئی ایسا وقت نہیں آیا ہوگا کہ ہر شہری کو ملک کی سلامتی کی فکر لاحق رہی ہو ہاں البتہ بڑے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ اب ایسا وقت ہے کہ ملک کے ہر شہری کو ملک کی سلامتی کی فکر دامن گیر ہو گئی ہے کسی بھی ملک کے لیے یہ لمحہ انتہائی قیمتی ہوتاہے‘ برسوں کی منصوبہ بندی ،اربوں روپے کی سرمایہ کاری اور ساری حکومتی مشینری اس کام پر لگا دینے سے بھی پوری قوم میں حب الوطنی کے جذبات پیدا نہیں کیے جاسکتے۔
آج پاکستان اس دور سے گزر رہا ہے کہ اس کے حکمرانوں کو کسی اعلان کسی تشہیر کی چنداں ضرورت نہیں حب الوطنی کے جذبات پوری قوم میں جیسے کوٹ کوٹ کر بھر دیے گئے ہیں یہ سارا کام کن لوگوں نے کیا ؟سچی بات تو یہ ہے کہ اس معاملے کی وضاحت پر درجنوں اوراق کالے کیے جاسکتے ہیں مگر مختصر بات یہ ہے کہ حب الوطنی کے ان جذبات کی آبیاری کچھ تو امریکی ڈرون حملوں نے کی ہے اور حب الوطنی کے قوم میں پیدا ہونے میں جوکسر رہ گئی تھی وہ خودکش حملوں نے پوری کر دی ہے بادی النظر میں امریکا اور عسکریت پسند دونوں آپس کی لڑائی میں پاکستان کا نقصان کررہے ہیں نہ امریکا کو پاکستان کے مستقبل کی فکر ہے اور نہ عسکریت پسندوں کو پاکستان کے نقصان کاکوئی غم ہے ان دونوں کی باہمی جنگ میں پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بج گئی ہے ایک فریق اپنی بقاء کی جنگ لڑرہا ہے اور دوسرا دجال کے خلاف اسلامی تاریخ کی سب سے مشکل جنگ میں برسر پیکار ہے اس دشمنی میں جب شدت آتی ہے تو امریکا پاکستان کی بے پناہ قربانیاں فراموش کر جاتا ہے دوسری جانب اگر امریکا ڈرون حملوں میں تیزی پیدا کردے توعسکریت پسند یہ بھول جاتے ہیں کہ افغانستان نہیں پاکستان ہے یہ ان دونوں کی دشمنی تھی کہ یہ افغانستان کی جنگ پاکستان میں داخل ہوگئی آج صورت حال یہ ہے کہ ان دونوںکی جنگ نے پاکستانی عوام کو تنگ کردیا ہے بات دلائل کی نہیں بات نقصانات کی ہے دلائل امریکا کے بھی وزنی ہوسکتے ہیں اور عسکریت پسندوں کے بھی بھاری ہوسکتے ہیں ہم دلائل کی بات نہیں کرتے ہم تونقصانات کی بات کرتے ہیں کل کا مورخ دلائل کی بات نہیں کریگا مورخ جنگ میں ہار جیت اور نقصانات کا جائزہ لیتے ہیں ‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مورخ جب بھی نتیجہ اخذ کرے گا اور دونوں میں سے کسی کو نہ تو فاتح قرار دے گااور نہ ہی شکست خوردہ اس لیے کہ جنگ دوطاقتوں اور ملکوں کے درمیان ہوا کرتی ہے
یہ جنگ سپر پاور اور زیر زمین چند عناصر کے درمیان ہے کل کا مورخ جب ان دونوں طاقتوں میں توازن کا ادراک کرے گا وہ اسے سپر طاقت کی توہین قراردے گااور کمزور فریق کو جنگ کا فاتح قرار دے گا مورخ یہ کہے گا کہ چیونٹی نے ہاتھی کو پچھاڑ دیا امریکا کے خلاف جنگ کرنے والوں کی اپنی زمین ہے نہ آسمان اس لیے وہ لوگ اس جنگ کو ہر خطے میں پھیلانا چاہتے ہیں اور یہ امریکا کی نادانی ہے کہ وہ ہر جگہ ان کے مرضی کے میدان جنگ میں کود پڑتا ہے امریکا کی طاقت کے مقابلے میں القاعدہ کی مثال چیونٹی سے زیادہ نہیں ۔امریکہ اس وقت صرف 50ریاستوں کا نام نہیں یہ پوری دنیا کے 2سو 45ممالک میں پھیلا ہو اہے اس کے ساری دنیا میںسفارت خانے قونصل خانے بحری بیڑے اور ہوائی مستقر ہیں یہ اس وقت وہ ہاتھی بن گیا ہے کہ چیونٹی کو ہاتھی کی سونڈ تک پہنچے کے لیے اس کی اس غذا کا راستہ اپنانا ضروری نہیں جسے وہ کھنگال ‘ ٹٹول اور جھاڑ پونچھ کر کھاتا ہے بلکہ چیونٹی کے ہاتھی کی سونڈ تک پہنچنے کے ہزار رستے ہیں اس کے چار پاؤں وہ راستہ ہیںجن سے چیونٹی بآسانی چل کر اس کی سونڈ تک پہنچ سکتی ہے اس سے یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ شکار جتنا بڑا ہو، اسے دور سے گولی مارنا اتنا ہی آسان ہے کچھ ایسی ہی صورت حال سے امریکا دوچارہے اس کی معیشت جنگی اخراجات کا مزید بوجھ نہیں جھیل سکتی جہاں امریکا کی یہ صورت حال ہے وہاں امریکا کے خلاف دنیا بھر میں جاری مزاحمت بھی کچھ ایسی ہی کمزورصورت حال کی غمازہے ان دونوں کے انجام میں زیادہ دیر اب باقی نہیں دوچار سال میں اس جنگ کی نوعیت بدلنے کو ہے کل کا مورخ ان کا جو انجام لکھے گا وہ رہاایک طرف یہ دونوں فریق ہمارے لیے جو کام کرکے جارہے ہیں وہ قابل رشک ہے وہ کام ان دونوں کا کارنامہ نہیں بلکہ سیاہ کارنامہ ہے۔
مگر جس طرح ناکامی کے پردے میں کہیں نہ کہیں دور پار ایک کامیابی چھپی ہوئی ہوتی ہے ویسی ہی وہ کامیابی یہ ہے کہ جس ملک کو خستہ حال بنانے میں انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ان کی یہ پاکستان مخالف سرگرمیاں لاکھ نقصان اوربرائیوں کے ساتھ جو فائدہ دے کر جارہی ہیں وہ یہ ہے ان کی پاکستان مخالف سرگرمیوں سے ملکی سلامتی کو جو خطرات لاحق ہوئے اس نے پوری قوم میں اجتماعی حب الوطنی کے جذبے کو جنم دیا اجتماعی حب الوطنی انقلاب بسیاراور برسوں بعد پیدا ہواکرتی ہے یہ ہمیں ان کی چند برسوں کی جنگ میں مل گئی ہے جس قوم میں اجتماعی حب الوطنی کا جذبہ پیدا ہوجائے وہ قومیں زندہ رہتی ہیں اور ملک قائم رہا کرتے ہیں امریکا سپر پاور رہے یا نہ رہے اس کے خلاف مزاحمت شدت پکڑے یا دم توڑ جائے یہ سب غیر یقینی ہے مگر پاکستان کا قائم رہنا یقینی ہے اس لیے کے اجتماعی حب الوطنی کا جذبہ ملک اور اس قوم کو مرنے نہیں دیا کرتا ۔
Tags: Articles , ; Columns , ; Zubair Ahmed Zaheer

دنیا میں دو طبقے موجود ہیں ایک سرمایہ دار اوردوسرا مزدور ، سرمایہ دار کا غذ کے ٹکڑوں کے بل بوتے پرکچھ نہ کرتے ہوئے دنیا کے تمام عیش و آرام حاصل کرتے ہیں اوران کی جائیداد روز بروز بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ مزدورطبقہ کی محنت اور خون پیسنے سے سرمایہ داروں کوعیش وآرام بھی مل رہاہے دولت بھی بڑھ رہی ہے ،جس کی محنت سے یہ ہورہاہے اسی مزدورطبقے کا بدترین استحصال بھی جاری ہے ۔محنت کر نے والے مزدورکے پاس چھت ہے نہ دووقت کی روٹی میسرہے۔وہ بچوں کوتعلیم دلواسکتاہے نہ اپنا رہن سہن بہتربناسکتا ہے ۔ پاکستان میں مزدور طبقہ جانوروں سے بھی بد تر زندگی گزاررہاہے ۔آئے دن آ پکو غربت سے تنگ آئے ہوئے لوگوں کی خود کشیوں کی خبریں اخبار میںنظر آئیں گی جبکہ سرمایہ داروں کے کتوں کی خوراک بھی باہرسے منگوائی جاتی ہے بھٹہ مزدوروں کے خاندانوں کے خاندان بھٹہ مالکان کے قبضے میں ہیں جوغلاموں کی زندگی گزاررہے ہیں ان پرتشد د بھی کیا جاتاہے اور ان سے جانوروں کی طرح کام بھی لیا جاتاہے ۔ آج بھی بھٹہ مالکان سب کے سامنے کہتے ہیں کہ میں نے اپنے بھٹہ کیلئے اتنے خاندان خریدے ہیں ۔سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہم خاموش ہیں ہماری بے حسی کااندازہ لگانامشکل ہے۔ اور پاکستان میں محنت کشوں کی جہری کی امید یں لگاناہی عبث ہے کیونکہ حکومت میں شامل لوگ سرمایہ دار اورجاگیرادارہیں۔ وہ کبھی بھی نہیں چاہتے کہ مزدورتھوڑا سا بھی خوشحال ہو مزدوراورغریبوں کو پیپلز پارٹی کی حکومت سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں جو بہت جلد دم توڑ چکی ہیں ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت سے تو اتنا ہی نہیں ہوسکا کہ پہلے مزدور ڈے پرکنونشن سنٹر میں کئے گے وعدے پورے کرتی مزدورکی کم ازکم 6000 روپے تنخواہ پرہی عمل درآمد کرادیتی ، مگروہ اعلان اعلان ہی رہا آج بھی اسلام آباد میں لوگ 2000 اور 2500 روپے ماہوار پر مزدور ی کررہے ہیں ۔ مجھے جب معلوم ہوا کہ مزدوروں کا ایک وفد فیصل آباد سے پیدل چل کر اسلام آبادآیاہے۔ سرمایہ دار کے ظلم واستحصال سے پریشان مزدوروں نے انصاف کے لیے پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کی زنجیر ہلائی ہے لیکن مجھے معلوم نہیں کہ ازخود نوٹس لے لیاگیا ہے یا نہیں ، انصاف کب اورکیسے ملتا ہے مگرپانچ روز سے بھو ک ہڑتال پر بیٹھے مزدوروں کی حالت خراب ہوتی جارہی ہے لیکن کسی حکمران سیاستدان کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ ان کے پاس آکران کوحوصلہ ہی دے دیں اب میں ان مزدوروں کے پاس گیا تو معلوم ہوا کہ یہ فیصل آبادکی نشاط ٹیکسٹائل ملزسے نکالے گئے مزدورہیں جنہیں نشاط ملز کی مینجمنٹ نے حکم دیا ہواتھا کہ کوئی یونین وغیر رجسٹر ڈ نہیں کرانی ورنہ تمہیں فارغ کردیا جائے گا۔ یہ سرمایہ دار کبھی بھی نہیں چاہتے کہ مزدورکی یونینز بنیں کیونکہ مزدوروں کی تنظیمں وجود میں آنے سے مزدوراپنے حقوق کیلئے موثر آواز اٹھاسکتے ہیں اورمجبوراً سرمایہ داروں کوکچھ حقوق دینا بھی پڑتے ہیں اس لیے ان کی، ملز مینجمنٹ کو واضع ہدایات ہوتی ہیں کہ ایسا کرنے والوں کو فوراً ملز سے نکال دو ۔ ان مزدوروں نے کوئی غیر قانونی کام نہیںکیا اپنے حقوق حاصل کرنے کیلئے یونین بنانے کیلئے، این آئی آر سی کو درخواست دی این آئی آرسی کی پر قانونی ذدمہ داری ہوتی ہے کہ یونین رجسٹرڈ ہونے تک اس درخواست کوخفیہ رکھے مگر این آئی آر سی میں موجود کالی بھیڑیں جوسرمایہ داروں سے بھتے لیتی ہیں نے نشاط ٹیکسٹائل ملز کے لوگوں کوآگاہ کردیا تو انہوں نے تما م ان مزدوروں کونکال دیا جن کے نام اس درخواست میں تھے۔وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی پہلی تقریرمیں اعلان کیا تھا کہ تمام یونینز پابندی ختم مگر اس تقریر کے بعد وزیراعظم بھول بھال گئے اوراس پرعملدرآمد نہ ہو ا یا پھرعملدرآمد ان قوتوں نے کرنے نہ دیا جو سرمایہ داروں کے مفاداتکے محافظ ہیں ۔ وزیراعظم پاکستان اگراتنے ہی بے بس ہیں کہ وہ اپنے احکامات پرعملدرآمد کی نہیں کراسکتے تو پھرایسی باتیں کرتے کیوں ہیں؟ فیصل آباد سے پیدل چل کرآنے والا مزدوروں کایہ قافلہ اپنا قانونی حق مانگنے کے جرم میں بے روزگار کردیاگیاہے اس جرم کی سز ا صرف یہ ہی نہیں بھگتیں گے بلکہ ان کا پورا خاندان بھگتے گا۔ کیونکہ مزدوراگر ایک دن کا م پرنہ جائے تو فاقہ کشی شروع ہوجاتی ہے۔ یہ لوگ اٹھارہ جون سے احتجاج پرہیں ۔یہ نکالے گئے ملازمین کو بحال کرانا چاہتے ہیں ۔ وزیراعظم صاحب، حکومتی رٹ کوسوات اوروزیرستان میں چیلنج نہیں کیا جارہا ،ہرسامایہ دار اپنی مل میں حکومتی رٹ کو چیلنج کررہاہے ۔ سرعام لیبر قوانین کی دھجیاں اڑا رہاہے ۔ ٹریڈ یونینز جومزدوروں کا بنیادی حق ہے مگرکوئی بھی صنعت کاراس حق کوتسلیم کر نے پرتیارنہیں اورنہ ہی اس کو کسی کا کوئی ڈرہے ۔ سرمایہ دارنے ہمیشہ مزدور سے جینے کا حق چھینے کی کوشش کی ہے ۔ مزدور کے استحصال کو مقصد بنالیاہے ۔ موجودہ حکومت پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اورپیپلز پارٹی مزدور وں کی پارٹی تھی مگرآج اس پارٹی میں مزدوروں کی پارٹی والی کو جھلک نظرنہیں آرہی ۔ تنگ آمد بجنگ آمد والا کام نہ ہو اگرمزدوراٹھ کھڑا ہوتو پھرحکومت بچے گی اورنہ کوئی سرمایہ دار
Tags: Articles , ; Columns , ; Mumtaz Ahmed Bhatti
مزید کالم تجزیے مضامین انٹرویو فیچر